دیوبند: سمیر چودھری۔
جین سماج کے مذہبی مقام ’شری سمید شکھرجی ‘ کو سیاحتی مقام بنائے سے ناراض سماج کے لوگوں نے مرکزی حکومت اور جھارکھنڈ حکومت کی مخالفت کرنے کا حلف لیا۔ میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ جب تک سمید شیکھر جی کو مقدس مذہبی مقام کا درجہ نہیں دیاجاتا تب تک بی جے پی کی مخالفت کی جائیگی۔
آج یہاں دیوبند کے محلہ قانون گویان میں واقع جین گیسٹ ہاؤس میں منعقدہ میٹنگ میں سماج نے ’شری سمید شیکھرجی‘ کی عزت و احترام کی بقاء کے خاطر مختلف فیصلے لئے۔اس دوران سماج کو نظر انداز کرنے پر بی جے پی کی مخالفت کرنے کا حلف لیا گیا۔ جین سماج کے صدر سدیش جین نے کہا کہ بی جے پی جس طرح سماج کو نظر انداز کر رہی ہے، وہ ناقابل برادشت ہے۔ میٹنگ میں احتجاج کے طوراداروں اور دکانوں کے باہر بینر اور کالے جھنڈے لگاکر مخالفت کرنے کی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس دوران میونسپل چیئرمین ضیاء الدین انصاری کے بیٹے جمال انصاری نے مذہب کے تحفظ کے لیے جین برادری کے ساتھ تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور یہاں تمام مذاہب کا احترام کیا جانا چاہئے۔ امت تائل نے کہا کہ ہر کسی کو اس مشکل وقت میں جین سماج کا تعاون کرنا چاہیے۔ جنرل سکریٹری پرانشو جین نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت اور جھارکھنڈ کی ہیمنت سورین حکومت ایک سازش کے تحت جین سماج کے مذہبی مقامات پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ 
سوسائٹی کے ترجمان شبھم جین اور انکت جین نے کہا کہ جب ہریدوار، رشی کیش اور کاشی سمیت دیگر مذہبی شہر ہیں تو جینوں کے مقدس مقام کو سیاحتی مقام کیوں بنایا جا رہا ہے؟۔ انہوں نے انتباہ دیا اگر حکومت نے یہ کالا قانون واپس نہ لیا تو سماج احتجاج پر مجبور ہو گا۔ میٹنگ میں سدیش جین، منیش جین، پونیت تائل، پروین جین، انکت جین، رشبھ جین، رجنیش جین، اکشت جین، منیش جین، اجے جین اور سنیل جین سمیت کثیر تعداد میں لوگ موجودرہے۔