قاسم سید، ایڈیٹر ان چیف روزنامہ خبریں۔
اخرکار بی جے پی نے اترپردیش کے قدآور اور سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما محمد اعظم خاں سے ان کا آخری قلعہ بھی چھین لیا۔ آزادی کے بعد پہلی بار بھگوا بریگیڈ کو مسلم اکثریتی شہر میں کامیابی ملی یہ اتنی اہم ہے کہ وزیراعظم نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں کی گئ اپنی تقریر میں بطورخاص رامپور کی جیت کا تذکرہ کیا ،یہ الگ بات ہے کہ رامپور شہر نے 5دسمبر کو اس جیت کی کتنی بھاری قیمت چکائ، لگاتار فورس کا فلیگ مارچ کرایا گیا،خوف و د ہشت دل پر بٹھانے کے انتظامیہ پر ہر ممکن ہتھکنڈے کے الزامات لگے ۔جو ویڈیو سوشل میڈیا پر آے وہ راۓ دہندگان کے ساتھ سنگین زیادتیوں کی کہانیاں بیان کرتے ہیں۔ حتی کہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے حالانکہ پی ایم نے پرامن انتخابات کرانے پر الیکشن کمیشن کو مبارکباد پیش کی ہے۔
رامپور عرصۂ دراز سے حکمران جماعت کی ‘عنایتوں’کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ یوپی کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی شہر ہے ،دوسرے أعظم خان کا گزشتہ چالیس سال سے ناقابل تسخیر گڑھ تھا ۔کبھی کسی کی دال نہیں گلی ۔اعظم خاں سے یوگی سرکار کا ‘مشفقانہ رویہ: اور ‘مہربانیاں’ ڈھکی چھپی بات نہیں۔لوک سبھا کے ضمنی الیکشن میں بھی انتظامیہ کی دھاندلیوں اور جبروتشدد کی شکایات سامنے آئ تھیں مگر کوئ سنوائ نہیں ہوئ تھی ۔کہاجاتا ہے کہ ‌اسمبلی سیٹ کے ضمنی الیکشن میں زیادتیوں کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑدیےگیے جس پر سپریم کورٹ نے بھی آئ پی ایل کی سماعت کےوقت اظہار تشویش کیا ۔پولنگ کے دوران جو وحشت بھرے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوۓ ہیں وہ خودہی حالات کی گواہی دے رہے ہیں اور ایک نیا ٹرینڈ سامنے آیا ۔ دیکھ کر لگتا ہے کہ ایک خاص کمیونٹی کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا،پولنگ بوتھوں کے باہر پولیس ایک خاص کمیونٹی سے دستاویز طلب کرتے دیکھی گئ جو اس کا حق ہے نہ فرض ۔مسلم اکثریتی علاقوں میں جو رویہ پولیس وانتظامیہ کا رہا وہ مستقبل کے خطرات کی پیشگی آگہی ہے جسے نظر انداز کرنا مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ بھارت کی عظیم جمہوریت ہے جس کےحصول کے لیے ہر مذہب و ملت کے لوگوں نے پیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ آئین نے ہر شہری کو برابری کا حق دیاہے ۔اپنی پسند کی حکومت بنانے کا حق دیا ۔ رامپور میں جو کچھ مناظر سامنے آۓوہ یقینا جمہوریت کے لیے خطرہ کی گھنٹی کے ساتھ اقلیتی کمیونٹی کے لیے بہت صاف اور سخت پیغام ہے،اس کے علاوہ بین السطور میں جو کچھ ہے اگر اس کو نہیں سمجھاگیا خاص طور سے مسلم جماعتوں ،اداروں اور دانشوروں نے خاموشی کی چادر اوڑھنے میں عافیت سمجھی،سیلاب کے گھر پہنچنے کا انتظار کیا توکسی اور علاقے کو ‘رامپور’ بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ہمیں نواز دیوبندی کا اگلا نمبر آپ کا والا معروف شعر یاد رکھنا چاہئے۔
رامپور سے دیا جانے والا پیغام بہت صاف،اور طاقتور اشارے الم نشرح ہیں۔5دسمبر کا رامپور ان تمام بستیوں کے لیے الارم ہے جہاں مسلم اکثریتی آبادی ہے۔گروگولوالکرنے’بنچ آف تھاٹ’میں بغیرلاگ لپیٹ کے ایسی ہندوریاست کا خاکہ دیا ہے جہاں مسلمانوں کو ووٹ دینے کا حق نہ ہواور ان کو دوسرے درجہ کا شہری بناکر رکھا جاۓ۔اس کے لیے کوئ جیاو جاری نہیں ہوگا، نہ ہی پارلیمنٹ میں بل آۓ گا۔معمولی خطاؤں پر مکان بلڈوزکردینا، بلقیس کے مجرموں کی سزا پوری ہوۓ بغیررہائ، احتجاج کرنے پر گولی ماردینا، (جیسا کہ سی اے اے مخالف مظاہروں کے تعلق سے دیکھنے میں آیا) قانون ساز اداروں میں نمائندگی سے محروم کرنا (کئ ریاستی اسمبلیوں، لوک سبھا،اور مرکزی کابینہ میں حکمراں جماعت کی طرف سے مسلم نمائندگی نہ ہونا) بندوق کی نوک پر ووٹ کا حق چھیننے کی کوشش، پولنگ کے دوران ووٹروں کو گھروں میں نظر بند کردینا، باہر نکلنے پر ڈنڈے برسانا (جیسا کہ مقامی شہریوں نے الزامات عاید کیے ہیں ) کس پالیسی کی بین علامتیں ہیں کیا مزید تشریح کی ضرورت ہے؟
رامپور کا حالیہ الیکشن صرف کسی کی ہارجیت کا مسٔلہ نہیں، کسی پارٹی کے ممبر اسمبلی بننے کی لڑائی نہیں،بلکہ نیا perception اورنیا narrative سیٹ کرنے کی دوررس خطرناک حکمت عملی ہے۔آنے والے انتخابات میں کوئ اور بستی یا بستیاں جہاں مسلم اکثریت ہو ‘رامپور ‘بن سکتی ہیں اور مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ویسے تو مسلمان کا بدن لوہے کا بناہے وہ ان سب کی پروا نہیں کرتا اور نہ ہی وہ کل کے بارے میں سوچتا ہے. 

اندیشے ،خطرات سے نمٹنے کےلئے قبل از وقت حکمت عملی پر یقین نہیں رکھتا۔اور کوشش بھی کرے تو مسلکی تنازعات اور جماعتی وفاداری کے حصار سے باہر نکل نہیں پاتا۔ علما کے ایک طبقہ کو ‘دنیاداری’ کے معاملات سے کوئ لینا دینا نہیں رہے سیاسی علما تو ان کو اپنے ‘گھروندں’ سے باہر جھانکنے کی فرصت نہیں۔انہیں لگتاہے کہ ہم محفوظ ہیں، دوسرے کے پھٹے میں ٹانگ کیوں اڑائیں۔جو عارضی’ رخصت ‘کو رحمت وعنایت سمجھے بیٹھے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ہوا کا رخ کبھی بھی بدل سکتا ہے.

بہر حال اس آزمائشی دور میں ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی اور سب کا ہاتھ پکڑ کر چلنے کی اشد ضرورت ہے،فی‌الوقت کوئ ایسا اجتماعی پلیٹ فارم ترتیب دینے کی بھی ضرورت ہے جو سب کے لیے قابل قبول ہو، جہاں سر جوڑ کر بیٹھا جاسکے ،یہ معاملات مسلم پرسنل لا بورڈ کے دائرے سے باہر ہیں۔ مشاورت یہ کام کرتی رہی ہےمگر آپسی تنازعات و سرپھٹول کی وجہ سے بڑی حد تک اپنا اعتبار،اعتماد اور ساکھ کھوچکی ہے ، جبریہ حالات کا تقاضہ ہے کہ مقتدر جماعتیں اور ممتاز شخصیات ان واقعات و حالات کا نوٹس لیں اور دل شکستہ ماحول کو بدلنے اورمحروم طبقات کو حوصلہ دیں یہ سوال بڑا اہم ہوگیا ہے کہ آگے کا راستہ کیاہے ؟نزاکتوں بھرے ماحول میں اکھڑتے پاؤں کو کیسے جمایا جاۓ۔اور گم ہوتے وجود کی موجودگی کا کیسے احساس دلائیں۔اس کے لیےہمیں نیا بیانیہ اور نیا perception پیش کرنا ہوگا ، ہمیں ویلن والی پوزیشن کو (جو بنادی گئ ہے) بدلنا ہوگا۔،جرات گفتار کو جرأت رفتار دینی ہوگی۔
یہ اعظم خاں کی تباہی و بربادی کا معاملہ بھر نہیں ہے وہ تو اپنے اعمال کی سزا بھگت رہے ہیں لیکن رامپور پر جو قیامت صغریٰ برپا ہوئ وہ الارم ہے،ہم سب کے لیے وارننگ ہے۔ہر اس شہری کے لیے جو بھارتی آئین میں دیے گیے بنیادی حقوق کے تحفظ کا خواہاں ہے۔خداکرے رامپور کی کہانی کہیں اور نہ دہرائی جائے لیکن اس تجربے کو دوسرے علاقوں میں نہ آزمایا جاۓ اس کی کوئ ضمانت نہیں!۔کہیں کوئ آواز سنائ نہ دینا ڈراؤنا لگتا ہے۔2024کی لڑائ سر پر کھڑی ہے رامپور لٹمس ٹسٹ ہے’آگاہ رہیے،یہ جاگنے کا وقت ہے طوفان گھر پر دستک دے رہا ہے۔امیدیں رکھنے پر ٹیکس نہیں لگتا، ایڑیاں رگڑتے رہیں پانی یہیں سے نکلے گا،کشت ویراں سے مایوس نہیں ،یقیں محکم اور عمل پیہم جیسے آزمودہ نسخے ہمارے پاس ہیں.