نئی دہلی: جلاوطنی کی زندگی گزارنے والی بنگلہ دیشی گستاخ مصنفہ تسلیمہ نسرین اپاہج ہوگئی۔ اس کے کولہے کی ہڈی کے جوڑ کو ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعہ نکال دیا اور اس کی جگہ مصنوعی کولہے کا جوڑ لگادیا جس کے باعث وہ بستر کی ہوکر رہ گئی ۔ ملعون تسلیمہ نسرین نے حال ہی میں ہاسپٹل کے بستر پر اپنی چند تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہے۔گستاخ تسلیمہ نسرین، جو ایک ڈاکٹر بھی ہے، نے ٹوئٹر پر دعویٰ کیا کہ وہ ایک طبی جرم کا شکار ہوئی ہے۔اس نے یہ کہتے ہوئے کچھ بہت سنگین الزامات لگائے کہ نئی دہلی کے ایک ہاسپٹل نے اسے مستقل طور پر معذور کر دیا ہے جس نے اسے ایک سنگین سرجری کروانے میں گمراہ کیا، جس کی اسے ضرورت نہیں تھی۔گستاخ نسرین نے کہا کہ وہ گٹھنے کی چوٹ کی وجہ سے ہاسپٹل گئی تھی اور اس کے کولہے کی ہڈیاں کاٹ کر اس کی جگہ مصنوعی ہڈیاں لگا دی گئیں یہ سب پیسے کے لیے تھا۔گستاخ تسلیمہ نسرین نے کہا کہ کچھ دن پہلے پاجامہ میں پیر پھنس جانے کی وجہ سے وہ پھسل کر گٹھنے کے بل گرگئی۔ اسے اپنے گھٹنے میں کچھ چوٹیں آئیں اور بعد میں وہ ایک دوست کی سفارش پر علاج کے لیے ہاسپٹل چلی گئی۔ایکس رے اور سی ٹی اسکین کے بعد ڈاکٹر نے جس کی سفارش اس کے دوست نے کی تھی، نے بتایا کہ اس کے فیمر میں فریکچر ہے۔اس کے بعد ڈاکٹر کی طرف سے اسے دو آپشن دیے گئے۔ پہلا، ایک اندرونی فکسشن جہاں فریکچر کا علاج اسکرونگ کے ذریعے کیا جائے گا، اور دوسرا، کولہے کی تبدیلی کی ۔ کولہے کی ہڈیاں ہٹا کر اس کی جگہ پلاسٹک کی دھات لگائی جائے گی ۔گستاخ نے دعویٰ کیا کہ جب وہ اندرونی فکسنگ کا علاج کروانے پر اصرار کرتی تھی تو ڈاکٹر اور ان کی ٹیم نے اسے دوسرے علاج کے لیے رضامندی دینے پر مجبور کیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹروں نے اسے فیصلہ کرنے کے لیے جلدی کی، اسے دوسری رائے پر غور کرنے کا وقت نہیں دیا۔اس نے دردناک علاج صرف یہ جاننے کے لیے کیا کہ اس کے ایکسرے نے اس کے فیمر یا کہیں بھی فریکچر نہیں دکھایا۔اس نے کہا کہ مجھے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ میرے جوڑ ٹھیک کام کر رہے تھے، کبھی درد نہیں ہوا۔ میرے صحت مند اعضاء کاٹ دیے گئے اور مجھ سے مسلسل جھوٹ بولا گیا۔ ڈاکٹروں نے کبھی بھی اس مسئلے کا علاج نہیں کیا جس کے لیے میں ہاسپٹل گئی تھی۔