حیدرآباد: سیف الرحمان۔
 مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے طلباء و طالبات ان دنوں نیشنل اسکالرشپ پورٹل کے تحت اقلیتی طلباء کو ملنے والے اسکالرشپ کے لسٹ سے یونیورسٹی کو بلیک لسٹ کیے جانے کو لےکر پریشان ہیں۔خبر کے مطابق ۱۰ جنوری ۲۰۲۲ تک اسکالرشپ کے ویریفکیشن کا آخری وقت تھا اور یونیورسٹی کے طلباء کا بھی یونیورسٹی سے لےکر آبائی ضلع تک کا تفتیشی مرحلہ مکمل ہوگیا تھا کہ اُسی بیچ ۰۶ جنوری کو سارے لوگوں کا تفتیشی عمل یونیورسٹی کی طرف واپس کردیا گیا جس سے پریشان ہوکر طلباء نے مختلف افسران سے رابطہ کرکے تحقیق کیا تو معلوم ہوا کہ چند اُن طلباء کے فارم بھرنے کی وجہ سے یونیورسٹی کے تمام طلباء و طالبات کا تفتیشی عمل واپس کر دیا گیا ہے جو کہ اس اسکالر شپ کے حقدار نہیں تھے ۔اس پورے معاملے کو لےکر سب بڑا سوال جو کھڑا ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ کسی طالب علم یا چند طلباء کی غلطی پر انکا فارم ریجیکٹ کیا جاتا ہے لیکن اس کی وجہ سے پوری یونیورسٹی کے قریب ۱۸۰۰ طلباء و طالبات کا فارم ریجیکٹ یا واپس کرنے کا کیا جواز بنتا ہے؟مانو کے طلباء و انتظامیہ کے رابطہ کرنے پر محکمہ کی طرف سے یہ بتایا جارہا کہ پورٹل کی گڑبڑی ہے جسے جلد صحیح کر لیا جائیگا مگر قریب دو ہفتے گزر جانے کے بعد بھی پورٹل کے معاملات حل ہوتے نظر آرہے ہیں لہٰذا طلباء تذبذب کا شکار ہیں اور بہت سے طلباء اسے مانف ختم کیے جانے سے جوڑ کر اس عمل کو بھی اقلیتوں کے خلاف سازش سے تعبیر کر رہے ہیں۔یونیورسٹی کے طلباء سے بات کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے طلباء ایسے ہیں جن کا سیمسٹر فیس بھی اسکالر شپ کے پیسے سے ادا ہونا ہے لہٰذا یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کو لےکر طلباء لگاتار آواز اٹھا رہے ہیں جس کے تحت انہوں نے گزشتہ دنوں دھرنا بھی دیا جس میں طلباء یونین لیڈران کی درخواست پر یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ نے آکر اپنی طرف سے مسئلہ کے حل کیلئے مکمل کوشش کا یقین دلایا اور ضرورت پڑنے پر دہلی جاکر مائینورٹی افئیرس سے ملنے کا بھی اعلان کیا اسکے بعد یونیورسٹی کی طرف سے طلباء کو بتایا گیا کہ مرکزی مائینورٹی افیئرس کو وائس چانسلر کی طرف سے اس معاملے کو لےکر خط لکھا گیا ہے۔طلباء نے دھرنا دینے کے ساتھ ہی ٹوئٹر مہم بھی چلایا جسمیں کانگریس کے قومی سیکرٹری توقیر عالم ،کانگریس لیڈر مشکور عثمانی ،طارق انور چمپارنی، اشرف حسین،جن ادھیکار شکتی پریشد بہار کے صدر تراب نیازی سمیت ملک بھر سے سیاسی و سماجی ایکٹوسٹ نے شرکت کر اس مسئلہ کے حل کیلئے آواز اٹھایا ساتھ ہی بہار سے جنتا دل یونائیٹڈ کے ایم ایل سی آفاق احمد خان اور بھاکپا مالے کے ممبر اسمبلی سندیپ سورو نے بھی محکمہ کو خط لکھ کر اس بات کو اٹھایا ہے۔یونیورسٹی میں طلباء کے بیچ ہو رہی چہ میگوئیاں سننے پر پتا چلتا ہےکہ وائس چانسلر اور سیاسی لیڈران کے زریعے مائینورٹی افیئرس کو خط لکھے جانے کے بعد بھی طلباء بہت زیادہ پر اُمید نہیں ہے لیکن وہ آخری حد تک کوشش کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے تو شاید بہت سے طلباء و طالبات کا تعلیمی سلسلہ بند ہو جائیگا اور یہ تمام طلباء و طالبات انتظامیہ سے یہ امید کر رہے ہیں کہ وہ خانہ پری کرنے کے بجائے سنجیدگی کے ساتھ مضبوط کوشش اس مسئلہ کے حل کیلئے کریں۔