سہارنپور: سمیر چودھری۔
سہارنپور ضلع دفتر پر سماج وادی پارٹی کے کارکنان کی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر سماج وادی پارٹی کے سابق سہارنپور شہر صدر فیصل سلمانی نے سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اترپردیش اکھلیش یادو کو مکتوب ارسال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لکھنو میں سماج وادی پارٹی کے بانی آنجہانی ملائم سنگھ یادو کے نام پر ایک لائبریری کا قیام کیا جائے تاکہ نوجوانوں کے لئے ایک مثال بن سکے۔ انہوں نے پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیڈر آنجہانی ملائم سنگھ یادو صرف ایک لیڈر ہی نہیں تھے بلکہ مہا پرُش تھے، ان کی زندگی ایک آئینہ ہے۔ نیتا جی سے صدیوں تک آنے والی نسلوں کو زندگی جینے کا موقع ملے گا اور ساتھ ہی سیاست ایمانداری کے ساتھ کرنے کا بھی سبق ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ آنجہانی ملائم سنگھ یادو نے ہمیشہ ایک اچھا انسان بننے کا سبق دیا ہے اس لئے ہم سب کی خواہش ہے کہ لکھنو میں نیتا جی کے نام سے ایک لائبریری بنائی جائے اور ان کی زندگی سے جڑی تمام باتیں اس لائبریری میں رکھی جائیں اور یہ لائبریری آگے چل کر نظیر بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس لائبریری کے قیام سے صدیوں تک نیتاجی کے کاموں سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں گے اور ان کی زندگی کو سمجھ کر اپنی زندگی میں اتارنے کی کوشش کریں گے۔ جملہ سنگھ اور حسین قریشی نے اس مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نیتاجی کے نام سے لائبریری کا قیام بہت ضروری ہے، کیو ںکہ سماج وادی پارٹی کی تاریخ آنے والی نسلوں کو بتانے کی بھی ضرورت ہے اس لئے اس کام کو کیا جانا وقت کی ضرورت بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آنجہانی ملائم سنگھ یادو کی سیاست کو پورا ملک قبول کرتا تھا جنہوں نے اپنی صاف ستھری سیاست سے سبھی مذاہب کے لوگوں کو متحد کرنے کا کام کیا ،ایک ایسے لیڈر کے نام سے لائبریری کا قیام کیا جانا اپنے آپ میں الگ کام ہوگا۔ انہو ںنے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے بڑے لیڈران کو اس کام میں جلد سے جلد ہاتھ بڑھانا چاہئے ۔اس موقع پر کنور پال ، وشال یادو ،انکت وشال، سہیل، انجورانی وغیرہ نے بھی لائبریری بنانے کی حمایت کی۔