نئی دہلی: سینئر صحافی انیل جین نے اپنے خصوصی تجزیاتی رپورٹ میںکہا ہے کہ ’’ آنے والے وقت میں مرکزی حکومت عبادت گاہوں سے متعلق قانون میں تبدیلی کر سکتی ہے۔ اس کی فوری ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس قانون کے موجود ہونے کے ساتھ ہی عدالتیں مذہبی مقامات کے حوالے سے ایسے احکامات دے رہی ہیں، جو ان کی نوعیت کو بدل سکتے ہیں۔ وارانسی کی گیانواپی مسجد کے بعد اب متھرا کی ایک عدالت نے شری کرشن جنم بھومی اور شاہی عیدگاہ کے درمیان تنازع میں سروے کرانے کا حکم دیا ہے۔ اس سے پہلے، جب وارانسی میں سروے کا حکم دیا گیا تھا، تو دوسری طرف نے بابری مسجد کے انہدام کے بعد بنائے گئے عبادت گاہوں سے متعلق ایکٹ کا حوالہ دیا، جس کے مطابق کسی بھی عبادت گاہ کی 1947 کی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ تب عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون کسی مذہبی مقام کے سروے کو نہیں روکتا۔ یہ بھی کہا گیا کہ سروے کرنے سے مذہبی مقام کی نوعیت نہیں بدلتی۔ اعلیٰ عدالتوں نے بھی اس دلیل کو مان لیا۔ اسی دلیل کی بنیاد پر متھرا میں بھی سروے کا حکم دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سروے کے ذریعے یہ ثابت ہو جائے کہ گیانواپی مسجد کے مقام پر ایک مندر تھا اور جس چشمے کے بارے میں بتایا جا رہا ہے وہ شیولنگ تھا تو کیا ہوگا؟ یا اگر سروے میں پتہ چلا کہ شری کرشن کی جائے پیدائش کے مقام پر ایک شاہی عیدگاہ ہے تو کیا ہوگا؟ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پھر ان دونوں جگہوں کو ہندوؤں کے حوالے کرنے کے لیے کیا ہوسکتا ہے۔ جب یہ مسئلہ عدالتوں کی سماعت سے پوری طرح پک جائے گا تو پھر عبادت گاہوں سے متعلق قانون میں تبدیلی کی جا سکتی ہے‘‘۔