ایمرسٹرڈم؍ واشنگٹن؍ انقرہ۔۲۴؍ جنوری: سویڈن میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے سانحے کی بازگشت ابھی ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ہالینڈ میں بھی اسی طرح کا ایک بدبختانہ واقعہ پیش آیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور یوروپی یونین نے سویڈن کے دل آزار واقعے کی مذمت تو نہیں کی لیکن اسے نفرت انگیز قرار دیا، ادھر سویڈن کے تعلق سے ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کا موقف مزید سخت ہوگیا ہے انہوں نے سویڈن کو وارننگ دی ہے کہ ترکی یوروپی یونین میں داخلے کی سویڈن کی حمایت ہر گز نہیں کرے گا۔ 
فارس نیوز کے مطابق ہالینڈ میں پاکیڈا نامی ایک انتہا پسند گروہ کے سرغنہ ایدوین واگنسولڈ نے شانِ قرآنی میں گستاخی کرتے ہوئے پہلے اُسے پارہ کیا اور پھر اُسے نذر آتش کر دیا۔ ترکیہ صدارتی دفتر کے ترجمان ابراہیم قالن نے ہالینڈ میں قرآنِ کریم پر گستاخانہ حملے کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا ہے۔قالن نے سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ہم، سویڈن کے بعد ہالینڈ میں بھی اپنی کتابِ مقدس قرآنِ کریم پر کئے گئے گستاخانہ حملے کی ، شدید مذمت کرتے ہیں"۔قالن نے کہا ہے کہ آپ اپنی تاریک پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھا نہیں سکیں گے۔ کوئی بھی آزادی اور تحّمل جیسے الفاظ کے ساتھ فسطائیت کے اس نفرت بھرے جُرم کو قابل قبول نہیں بنا سکتا۔ یورپ تاریکی کی اس لہر کے سامنے بند باندھنے پر مجبور ہے کہ جس کے ساتھ یہ بہتا چلا جا رہا ہے"۔ترکیہ کی حزب اقتدار جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر چیلک نے بھی سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں حملے کی مذمت کی ہے۔چیلک نے کہا ہے کہ "ہالینڈ کو اس فسطائی حملے کے مقابل دو ٹوک طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ انسانیت مخالف جرائم یورپی شہروں میں بشری اقدار کو روندتے پھِر رہے ہیں۔ ان جرائم کے مقابل مشترکہ جدوجہد الزم ہو چکی ہے"۔انقرہ میں ہالینڈ کے سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا ہے ۔وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم ۲۲ جنوری کو ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں سلام مخالف شخص کے مذموم حملے جس نے ہماری مقدس کتاب قرآن پاک کو نشانہ بنایا کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔سویڈن کے بعد اس بار ہالینڈ میں ہماری مقدس اقدار کی توہین اور نفرت انگیز جرم پر مشتمل یہ قابل نفرت فعل اس بات کا واضح اعلان ہے کہ یورپ میں اسلاموفوبیا، امتیازی سلوک اور زینو فوبیا کی کوئی حد نہیں ہے۔یہ اقدامات نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے بنیادی حقوق اور آزادیوں، اخلاقی اقدار اور سماجی رواداری کو براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں جس سے امن کے ساتھ رہنے کے کلچر کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔انقرہ میں ہالینڈ کے سفیر کو ترک وزارت میں طلب کرتے ہوئے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ہم اس گھناؤنے اور قابل نفرت فعل کی مذمت اور احتجاج کرتے ہیں، اور ہالینڈ سے ایسی اشتعال انگیز کارروائیوں کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ہم ڈچ حکام سے اس واقعے کے مرتکب افراد کے خلاف ضروری کاروائیاں کرنے اور ایسے واقعات کے دوبارہ روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔سویڈن میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنے پر صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے شدید ردِ عمل کہا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ جمہوریہ ترکیہ یا مسلمانوں کے مذہبی عقائد کا احترام نہیں کرتے تو آپ کو نیٹو پر ہماری طرف سے کوئی حمایت نہیں ملے گی۔صدر ایردوان نے یہ بیان دارالحکومت انقرہ میں کابینہ کے اجلاس کے بعد دیا۔صدر ایردوان نے سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں ترک سفارت خانے کے سامنے ڈنمارک کی انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹی کے رہنما راسموس پالوڈان کی جانب سے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی اجازت پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ جمہوریہ ترکیہ یا مسلمانوں کے مذہبی عقائد کا احترام نہیں کرتے تو آپ کو نیٹو پر ہماری طرف سے کوئی حمایت نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ہمارے سفارت خانے کے سامنے اس طرح کی بے عزتی کی، انہیں نیٹو کی رکنیت کی درخواستوں کے حوالے سے ہم سے کسی قسم کی حمایت کی ہرگز توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک کی انتہائی دائیں بازو کی سخت ہدایت پارٹی کے رہنما راسموس پالوڈان نے ہفتے کے روز سٹاک ہوم میں ترک سفارت خانے کے سامنے قرآن پاک کو نذر آتش کیا اور پولیس کے ہجوم کی حفاظت میں ہونے والے احتجاج کے دوران کسی کو پلوڈان کے قریب آنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ جون میں اسپین میں فن لینڈ اور سویڈن کے رہنماؤں نے سربراہی اجلاس میں میڈرڈ مطابقت پر دستخط کیے تھے، جس میں دہشت گردی کے خلاف جدو جہد میں ترکیہ کے تحفظات کو دور کرنے کا وعدہ کیا تھا۔سویڈن سانحے پرمتحدہ امریکہ نے ترکیہ کے اسٹاک ہوم سفارتخانے کے سامنے قرآن کریم کو نذر آتش کیے جانے کی مذمت نہیں کی تا ہم اس واقع کو بے حرمتی اورنفرت انگیز قرار د یا ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے یومیہ پریس کانفرس میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترکیہ کے اسٹاک ہوم سفارتخانے کے سامنے قرآن پاک کو نذر آتش کیے جانے کے واقعہ کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیموکریسی عناصر کے طور پر منظم ہونے اور جلسے کرنے کی ہم حمایت کرتے ہیں۔تاہم جیسا کے سویڈش وزیر اعظم نے بیان دیا ہے کہ بھاری تعداد میں انسانوں کے لیے مقدس ہونے والی کتاب کو جلانا ایک غیر شائستہ فعل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قانونی ہونے والی ہر چیز موزوں ہونے کا مفہوم نہیں رکھتی، سن ۲۰۱۰میں فلوریڈا میں ایک پادری کی جانب سے قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کی منصوبہ بندی کی یاد دہانی کراتے ہوئے پرائس نے کہا کہ بعض عوامل قانونی اور بیہودہ ہو سکتے ہیں۔ترجمان نے یہ بھی کہا کہ "ہمیں اس چیز کا بھی اندازا ہے کہ سویڈن میں ہونےو الی اس حرکت کا مقصد اٹلانٹک پار یورپی اتحادیوں کے مابین تعاون کو کمزور بنا سکنے پر مبنی ہو سکتا ہے۔”انہوں نے مزید بتایا کہ یہ کاروائی سویڈش حکومت کی نمائندگی نہیں کرتی، ترکیہ اور سویڈن کے درمیان تنازعات پیدا کرنے کی یہ قصدی کاروائی بد نیتی اور اشتعال انگیزی ہے۔وائٹ ہاوس کی ترجمان کیرین جین۔ پیئر نے اس واقع کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سویڈش وزیر اعظم اولف کرسٹرسون کے بیان کہ ‘کوئی حرکت قانونی تو ہو سکتی ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ مناسب بھی ہو” کی ہم بھی حمایت کرتے ہیں اور یہ حرکت ” انتہائی نا زیبا اور غیر اخلاقی ہے۔