گوہاٹی: حکومت آسام نے آج ان افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کافیصلہ کیاجو 14سال سے کم عمر کی لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں۔ چیف منسٹر ہیمنتابسواسرما نے کہاکہ ایسے افراد کے خلاف پوکسوقانون کے تحت کیس درج کیاجائے گا۔انہوں نے بتایاکہ آج یہاں منعقدہ ایک کابینی اجلاس میں یہ فیصلہ کیاگیاہے۔ نامہ نگاروں کو کابینی فیصلوں سے واقف کراتے ہوئے شرمانے کہاکہ آسام میں اوسطاً31 فیصد شادیاں ممنوعہ عمرمیں کی جاتی ہیں۔بچپن کی شادی پر امتناع قانون 2006 کااستعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی جو14اور18 سال کی عمرکی لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں۔ان کے خلاف درکار قانونی کاروائی کی جائے گی۔ سرمانے یہ بھی کہاکہ پولیس کوبچپن کی شادیوں کے خلاف ریاست بھر میں کاروائی شروع کرنے کاحکم دیاگیاہے۔ہرگاؤں میں نامزد عہدیدار برائے تحفظ اطفال ہوگااور گرام پنچایت کے سکریٹری وہاں ہونے والی کسی بھی بچپن کی شادی کی اطلاع دینے کے ذمہ دارہوں گے۔