نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 24 جنوری کو 'پیسیو یوتھنیسیا یعنی مرضی کی موت معاملے پر اپنے حکم میں ترمیم کا اعلان کیا ہے۔ جلد ہی اس سلسلے میں تفصیلی حکم جاری کیا جائے گا۔
دراصل 2018 میں عدالت نے شہریوں کو 'لیونگ وِل (اپنی زندگی کا فیصلہ) کا حق دیا تھا۔ اس کے تحت کوئی شخص ہوش میں رہتے ہوئے یہ لکھ سکتا ہے کہ سنگین بیماری کی حالت میں اسے لائف سپورٹ سسٹم پر جبراً زندہ نہ رکھا جائے۔ عدالت عظمیٰ نے اعتراف کیا ہے کہ سخت عمل کے سبب لوگ اس حق کا استعمال نہیں کر پا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ 'لیونگ وِل پر جیوڈیشیل مجسٹریٹ کی منظوری جیسی لازمیت کو ختم کرے گا۔ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی مدت کار بھی طے کی جائے گی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ہفتہ سپریم کورٹ نے 'غیر فعال مرضی کی موت (پیسیو یوتھنیسیا) پر ایک قانون کو آگے نہیں بڑھانے کے لیے مودی حکومت کی کھنچائی کی تھی۔ عدالت نے عمل کو آسان بنانے کے لیے اپنی گائیڈلائنس میں ترمیم کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ گزشتہ ہفتہ سماعت کے دوران جسٹس کے ایم جوزف، اجئے رستوگی، انیرودھ بوس، رشی کیش رائے اور سی ٹی روی کمار نے 'لیونگ وِل پر قانون نہیں بنانے کے لیے مرکزی حکومت کی سرزنش کی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ ایک این جی او نے 2018 کے فیصلے میں 'مرضی کی موت پر جاری کردہ گائیڈلائنس میں ترمیم کرنے کے لیے عرضی داخل کی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے 2018 میں غیر فعال مرضی کی موت کو جائز قرار دیا تھا اور آئین کی دفعہ 21 کے تحت بنیادی 'زندگی کا حق کے حصے کی شکل میں 'وقار کے ساتھ مرنے کا حق رکھا تھا۔