کاٹھمنڈو: نیپال میں اتوار کی صبح تقریباً ۱۱ بجے بھیانک طیارہ حادثہ ہوا ہے۔ یتی ایئر لائنس کا طیارہ کاٹھمنڈو سے ۲۰۵ کلو میٹر دو پوکھرا میں کریش ہوگیا، یہ اے ٹی آر ۷۲ پلین تھا، جس میں ۶۸ مسافر اور چار کرو ممبر سوار تھے، پوکھرا بین الاقوامی ایئر پورٹ پر لینڈنگ سے محض ۱۰ سکینڈ قبل ہی طیارہ پہاڑی سے ٹکڑا گیا، جس سے پلین میں آگ لگ گئی اور وہ کھائی میں جاگری۔طیارے میں پانچ ہندوستانی مسافر بھی سوار تھے۔ ان کا تعلق اترپردیش کے غازی پور سے ہے۔ ان میں انل راج بھر، وشال شرما، ابھیشیک کشواہا، سونو جے سوال، اور سنجے جے سوال شامل ہیں۔ جائے حادثہ سے دو لوگوں کو زندہ نکالا گیا ہے، دونوں مچھوارے تھے، اب تک ۲۰ لاشوں کی شناخت ہوئی ہے، پہچان نہیں ہوئی لاشوں کو ڈی این اے کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کاٹھمنڈو بھیجا جائے گا۔ پانچ ہندوستانیوں کے علاوہ طیارے میں ۵۳ نیپالی، چار روسی، ایک آئرش، دو کورین، ایک افغانی اور ایک فرانسی سوار تھے۔ ان میں تین نوزائیدہ بچے اور تین لڑکے بھی شامل ہیں۔ ایئر لائنس کے ترجمان سدرشن برتولا نے کہاکہ طیارے کے ملبے سے ابھی تک کسی کو زندہ نہیں نکالا جاسکا ہے۔ نیپال پولیس نے کہا ہے کہ مقامی ایئرلائن یتی کے پوکھارا میں گر کر تباہ ہونے والے طیارے میں ہلاکتوں کی تعداد ۷۲ہو گئی ہے۔۸۹ لاشیں ملبے سے نکالی جاچکی ہیں، چار لاشوں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ نیپال کی یتی ایئرلائنز کے ترجمان سودرشن بارٹولا نے کہا کہ طیارہ نیپال کے وسطی علاقے میں نئے اور پرانے پوکھارا ایئرپورٹس کے درمیان کریش ہوا ہے۔ایک مقامی عہدیدار گرودتا ڈھاکل کے مطابق ’(طیارے کے) ملبے میں آگ لگی ہوئی تھی اور ریسکیو اہلکار آگ بجھانے کی کوشش کر رہےتھے۔انہوں نے کہا کہ ’ریسکیو اہلکار پہلے ہی وہاں پہنچ گئے تھے اور آگ بجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ نیپال کے وزیر اعظم پشپ کمل دہل نے حادثے کے فوراً بعد ایمرجنسی میٹنگ طلب کی، نیپال حکومت نے حادثے کی جانچ کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔نیپال کی فضائی صنعت نے حالیہ برسوں میں عروج حاصل کیا ہے۔ طیارے سامان اور افراد کو ایسے علاقوں تک لے کر جاتے ہیں جہاں تک زمینی رسائی مشکل ہوتی ہے۔ یہ غیرملکی ٹریکرز اور کوہ پیماؤں کو بھی لے کر جاتے ہیں۔تاہم یہ ناکافی تربیت اور ناقص دیکھ بھال کی وجہ سے حفاظتی مسائل سے دوچار ہے۔ یورپی یونین نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر تمام نیپالی جہازوں کے اس کی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔نیپال میں دنیا کے سب سے دور دراز اور مشکل رن وے بھی ہیں جن کے اطراف میں برف پوش چوٹیاں ہیں اور ماہر پائلٹس کو بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ایئر کرافٹ آپریٹرز کا کہنا ہے کہ نیپال کے پاس موسم کی درست پیشین گوئی کے بنیادی ڈھانچے کا فقدان ہے، خاص طور پر ایسے دور دراز علاقوں میں جہاں ماضی میں جان لیوا حادثے ہو چکے ہیں۔پہاڑوں میں موسم بھی تیزی سے تبدیل ہو سکتا ہے، جس سے پرواز کے دوران خطرناک حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔گزشتہ برس مئی میں نیپالی ایئرلائن تارا ایئر کا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا اور 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔سنہ 1992 میں پی آئی اے کے طیارے کا کھٹمنڈو پہنچتے ہوئے گر کر تباہ ہونا نیپال کی تاریخ کا سب سے مہلک حادثہ تھا۔ طیارے میں 167 افراد سوار تھے۔