نئی دہلی: جمعرات کو منعقدہ یوم جمہوریہ تقریب کئی لحاظ سے منفرد تھی۔ اس سال تقریب کا موضوع عوامی شراکت تھا اور اسی کے مطابق اس سال مہمانوں کی گیلری میں پہلی قطار وی وی آئی پی کے بجائے مرکزی وسٹا ورکرز، فرنٹ لائن ورکرز، سبزی فروشوں اور آٹو ڈرائیوروں کے لیے مخصوص تھی۔ اس سال سماج کے تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے عام لوگوں کو دعوت نامے بھیجے گئے تھے جیسے کہ سینٹرل وسٹا، کرتویہ پتھ، نیو پارلیمنٹ ہاؤس، دودھ، سبزی فروش، پٹری والوں اور تعمیر سے جڑے مزدوروں کو دعوت دی گئی تھی۔ ان خصوصی مدعوئیں کو کرتویہ پتھ پر نمایاں طور پر بٹھایا گیا تھا۔

اس دوران ملک گیر وندے بھارتم ڈانس مقابلے کے ذریعے منتخب 479 فنکاروں کی طرف سے ثقافتی پروگرام پیش کی گئیں۔ ثقافتی پروگرام کا تھیم ‘ناری شکتی’ تھا جسے 326 خواتین رقاصوں نے پیش کیا۔ اسے 17-30 سال کی عمر کے 153 مرد رقاصوں نے سپورٹ کیا۔ انہوں نے کلاسیکی، لوک اور عصری کا فیوژن ڈانس پیش کیا جس میں پانچ عناصر زمین، پانی، ہوا، خلا اور آگ کے ذریعے ‘خواتین کی طاقت’ کو دکھایا گیا تھا۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ ثقافتی پروگرام کے رقاصوں کا انتخاب ملک گیر مقابلے کے ذریعہ کیا گیا۔اس سال یوم جمہوریہ کی تقریبات کے لیے مہمانوں اور حاضرین کے لیے جسمانی دعوتی کارڈز کی جگہ ای-انویٹس کے ذریعہ دی گئی تھیں۔ اس مقصد کے لیے ایک وقف پورٹل 
www.invitation.mod.gov.in 
شروع کیا گیا تھا۔ اس پورٹل کے ذریعے ٹکٹوں کی فروخت، ایڈمٹ کارڈ، دعوت نامہ اور کار پارکنگ کے لیبل آن لائن جاری کیے گئے ۔ اس کا مقصد پورے عمل کو مزید محفوظ اور پیپر لیس بنانے کو یقینی بنانا تھا۔ نیز ملک کے تمام حصوں سے لوگوں کو اس قومی تقریب میں شرکت کے لئے اہل بنانا تھا۔اس بار پریڈ کے لیے 45 ہزار لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا، جس میں تقریباً 12 ہزار پاسز تقسیم کیے گئے ، جب کہ 32 ہزار سے زائد آن لائن ٹکٹس فروخت ہوئی ہیں۔ اس سال کرتویہ پتھ پر بیٹھنے کے لیے مختلف انتظامات کیے گئے تھے ۔ عمودی پلیٹ فارم پر کرسیاں رکھی گئی تھیں تاکہ پیچھے بیٹھے لوگ بھی پروگرام دیکھ سکیں۔ یہ نئی قسم کی کرسیاں ہلکے سرمئی رنگ کی تھیں۔اس کے علاوہ ایک اور بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ اس سال پہلی بار یوم جمہوریہ کی تقریبات دیکھنے آنے والے لوگوں کو میٹرو میں سفر کی سہولت مفت فراہم کی گئی۔ جس کے پاس بھی یوم جمہوریہ کی تقریبات کا پاس تھا اسے میٹرو کی طرف سے مفت سفر کرنے کے لیے پاس فراہم کیا گیا تھا۔ اس کے لیے لوگوں کو اپنا موبائل نمبر اور پاس نمبر بتانا تھا۔