نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ (۲۰ جنوری) کے روز ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں میں کثرت ازواج اور نکاح حلال رسم کو آئینی چیلنج پیش کرنے والی عرضیوں پر پانچ ججوں کی بنچ سماعت کرے گی۔ اس معاملے پر پی آئی ایل داخل کرنے والوں میں سے ایک وکیل اشونی اپادھیائے کی طرف سے داخل جواب پر چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا نے کہا کہ اس سلسلے میں پانچ ججوں کی ایک نئی بنچ تشکیل دی جائے گی۔ دراصل پرانی آئینی بنچ کے دو جج جسٹس اندرا بنرجنی اور جسٹس ہیمنت گپتا سبکدوش ہو چکے ہیں، اس لیے بنچ کی از سر نو تشکیل کا فیصلہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال اشونی اپادھیائے کی طرف سے سپریم کورٹ میں کثرت ازواج اور نکاح حلال کے خلاف عرضی داخل کی گئی تھی۔ اس پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ پانچ ججوں کی بنچ کے پاس مزید کئی اہم معاملے زیر التوا ہیں۔ ہم مزید ایک آئینی بنچ کی تشکیل کر رہے ہیں اور اس معاملے کو دھیان میں رکھیں گے۔گزشتہ سال 30 اگست کو جب مذکورہ عرضی پر سماعت ہوئی تھی تو پانچ ججوں کی بنچ میں جسٹس اندرا بنرجی، ہیمنت گپتا، سوریہ کانت، ایم ایم سندریش اور سدھانشو دھولیا شامل تھے۔ اس بنچ نے قومی حقوق انسانی کمیشن، قومی خاتون کمیشن اور قومی اقلیتی کمیشن کو نوٹس جاری کر معاملے پر اپنا جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔ کچھ وقت بعد 23 ستمبر اور 16 اکتوبر کو جسٹس بنرجی اور جسٹس گپتا ریٹائر ہو گئے تھے۔ اس وجہ سے کثرت ازواج اور نکاح حلال کے خلاف داخل 8 عرضیوں کی سماعت کے لیے نئی بنچ تشکیل دینے کی ضرورت پڑ گئی تھی۔بی جے پی لیڈر اور مشہور وکیل اشونی اپادھیائے سمیت کچھ مسلم خواتین نے مسلم مردوں کے ایک سے زیادہ شادی کرنے اور نکاح حلال کے خلاف عدالت میں عرضی داخل کی ہوئی ہے۔ عرضی دہندگان میں نائسا حسن، شبنم فرزانہ، ثمینہ بیگم وغیرہ شامل ہیں۔ ان سبھی نے کثرت ازواج اور نکاح حلال کو غیر آئینی اور ناجائز قرار دیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔