علیگڑھ: ریاست اترپردیش کے ضلع مرادآباد کے ہندو کالج میں برقعہ پہننے کے خلاف ہونے والے ہنگامے کو لے کر علیگڑھ سے سماج وادی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی حاجی ضمیر اللہ کا متنازع بیان سامنے آیا ہے ۔ انہوں نے اپنے متنازع بیان میں کہا ہے کہ برقعہ یا پردے پر پابندی عائد کرنے والوں کو ننگا کر کے گھومانا چاہیے۔اطلاع کے مطابق ریاست اترپردیش کے مرادآباد ضلع میں ہندو کالج کے کئی طلباء نے الزام لگایا کہ انہیں برقعہ پہننے کی وجہ سے کالج میں داخلے سے منع کیا گیا تھا۔ کالج کے حکام کا کہنا ہے کہ کالج نے تمام طلباء کے لئے ڈریس کوڈ نافذ کیا ہے۔ کالج کی طالبات کا کہنا تھا کہ انہیں برقعہ پہننے کی وجہ سے کالج میں داخلے سے منع کیا گیا تھا۔ مبینہ طور پر داخلی گیٹ پر سیاہ لباس اتارنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔سماج وادی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی حاجی ضمیر اللہ نے اس واقعے کے حوالے سے اپنا بیان دیتے ہوئے کہاکہ اسکول کالج میں برقعہ پہن کر جانے والی طالبات پر پابندی عائد کرنا ُغلط ہے، برقعہ پہننے پر پابندی عائد کرنے والوں کو ننگا کرکے سڑک پر پریڈ کروائی جائے، جب پتہ چلے گا پردہ کیا ہوتا ہے۔ضمیر اللہ نے مزید کہا کہ یہ بالکل غلط ہے، لڑکیاں برقعہ پہن کر جانا چاہتی ہیں، برقع پر پابندی نہیں ہونی چاہیے، یہ ہمارے ہندوستان کا کلچر ہے۔ آج بھی ہمارے گھروں میں ماں بہنیں نکاب اور گھونگھٹ میں رہتی ہیں، آج بھی گاؤں میں عورتیں لمبا گھونگٹ کرتی ہیں۔اسکول میں ڈریس کوڈ کوئی آج سے شروع نہیں ہوا ہے پہلے سے اسکول میں طالبات برقعہ اور حجاب میں جاتی ہیں اس لئے ان پر پابندی عائد کرنا غلط ہے۔