اندور: اندور میں ایک ۲۴ سالہ ہندو لڑکی اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ جنم دن منارہی تھی، تبھی ہندو تنظیموں کے افراد وہاں پہنچ گئے اور لڑکی کے دوستوں میں سے مسلم دوستوں پر لو جہاد کا الزام عائد کرکے انہیں برا بھلا کہا اور ان کی پٹائی کی گئی، موقع پر پہنچی پولس نے انہیں اپنے س اتھ لے گئی جہاں راستے بھر ہندو تنظیم کے افراد جے شری رام اور گولی مارو سالوں کے نعرے لگاتے رہے۔ جس کا ویڈیو ٹوئٹر سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر وائرل ہے۔ ہندی نیوز پورٹل نئی دنیا کے مطابق سنیچر کو اندور میں ہندو تنظیموں کے لوگوں نے پانچ مسلم لڑکوں کو دو ہندو لڑکی کے ساتھ پکڑا۔ ان لوگوں نے الزام عائدکیا کہ مسلم نوجوان نشیلی اشیاء کھلا کر ان کے ساتھ فحش حرکت کررہے تھے، حالانکہ لڑکیاں مسلم نوجوانوں کو اپنا دوست بتارہی ہیں۔ ہندو تنظیم کے افراد نے لوجہاد کا الزام بھی عائد کیا ہے، پولس ملزمین سے ملے آئی ڈی کارڈ کی تحقیقات کررہی ہے۔ ایم آئی جی تھانہ ٹی آئی اجے ورما نے بتایاکہ واقعہ چندر لوک کالونی میں واقعہ ایک ہوٹل کے اوپر کا ہے، بجرنگ دل کے کارکنان کو اطلاع ملی تھی کہ روم نمبر ۳۰۳ میں مسلم نوجوان ٹھہرے ہوئے ہیں جو ہندو لڑکیوں کو لے کر آئے ہیں، بجرنگ دل کے ریاستی کنوینر تنو شرما سمیت منوج یادو، کرشنا واگھ، راہل پانڈے سمیت دیگر لوگوں نے ہوٹل پر دبش دی، اور وہاں سے شعیب، فیضان، اظہر، عارش، اور توحید خان کو پکڑا، ان کے ساتھ دونوں لڑکیاں ہندو تھیں جس میں ایک بھنور کنواں علاقے میں رہتی ہے، دوسری شاجا پور ضلع کی رہنے والی ہے، یہ لڑکیاں ایم پی پی ایس سی کی تیاری کررہی ہیں۔ ایس آئی سیما شرما کے مطابق لڑکیوں نے بتایاکہ شعیب ان کا دوست ہے، جمعہ کو اس کا برتھ ڈے تھا اور وہ یوم پیدائش منانے کےلیے آئی تھیں۔ دریں اثناء واقعے کی وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح ہندو تنظیموں کے اراکین ان مسلم نوجوانوں کو فحش گالیاں دیتے ہوئے انہیں مار پیٹ رہے ہیں اور جب پولس انہیں گاڑی میں بٹھا کر لے جاتی ہے پیچھا کرتے ہوئے تو راستے میں جے شری رام اور گولی مارو سالوں کوکے نعرے لگاتے ہیں۔