نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جبراً تبدیلی مذہب کو لے کر داخل عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔جسٹس ایم آر شاہ کی صدارت والی بین نے عرضی گزار سے کہا کہ اس طرح کی عرضی ہمارے پاس پہلے سے زیر التوا ہے ایسے میں سیکڑوں عرضیاں ہو جائیں گی ۔ ہم آپ کو سنیں گے، لیکن آپ مداخلت کی درخواست دائر کریں۔سماعت کے دوران درخواست گزار نے کہا کہ اس کیس میں نوٹس جاری کرکے اسے مرکزی کیس کے ساتھ ٹیگ کریں، تاہم عدالت نے یہ مطالبہ مسترد کردیا۔ دراصل آشوتوش کمار شکلا نے لالچ یا زبردستی تبدیلی مذہب کے حوالے سے ایک نئی درخواست دائر کی تھی۔5 دسمبر 2022 کو اس معاملے پر پہلے سے زیر التوا عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ غریبوں کی مدد کرنی چاہئے ، لیکن اس کا مقصد مذہب تبدیل کرنا نہیں ہو سکتا۔ اس معاملے میں مرکزی حکومت نے حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور اس طرح کا قانون ضروری ہے۔عدالت نے 23 ستمبر 2022 کو مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔ مرکزی حکومت نے حلف نامہ میں کہا ہے کہ امن عامہ ریاستی فہرست کا موضوع ہے، اس لیے نو ریاستوں نے اسے روکنے کے لیے قانون بھی بنایا ہے۔ یہ ریاستیں ا ڈیشہ، مدھیہ پردیش، گجرات، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، اتراکھنڈ، اتر پردیش، کرناٹک اور ہریانہ ہیں۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ وہ عرضی میں اٹھائے گئے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات کرے گی۔یہ عرضی بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی اپادھیائے نے دائر کی ہے۔ درخواست میں تمل ناڈو کی لاونیا سمیت دیگر واقعات کا حوالہ دیا گیا جس نے عیسائیت اختیار کرنے کے دباو¿ کی وجہ سے خودکشی کرلی۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ پچھلی دو دہائیوں میں نچلے طبقے کے لوگوں، خاص طور پر درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے مذہب کی تبدیلی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ معاشی طور پر کمزور طبقوں کو ہمیشہ تبدیلی مذہب کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس سے اپنے مذہب کی تشہیر کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ہندوستان میں صدیوں سے تبدیلی کا عمل جاری ہے۔ اس کو روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی این جی اوز کو تبدیلی کے لیے ماہانہ ٹارگٹ دیا جاتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت نے اس کے خلاف اقدامات نہ کیے تو ہندو ملک میں اقلیت بن جائیں گے۔