نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اتر پردیش کے باہوبلی سیاست داں مختار انصاری کو راحت دی ہے۔ عدالت نے 2003 میں جیلر کو ریوالور دکھا کر جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو¿ بنچ کی طرف سے دی گئی 7 سال کی سزا پر روک لگا دی ہے۔ قبل ازیں مختار انصاری کو ٹرائل کورٹ نے بری کر دیا تھا۔مختار پر 2003 میں لکھنو¿ کے اس وقت کے جیلر ایس کے اوستھی کو ریوالور دکھا کر جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا الزام ہے۔ جیلر کی شکایت کے مطابق مختار انصاری کو جیل میں ان سے ملنے آنے والے لوگوں کی تلاش کا حکم دینے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔ ٹرائل کورٹ سے بری ہونے کے بعد یوپی حکومت نے ہائی کورٹ میں اپیل کی۔الہ آباد ہائی کورٹ نے سات سال قید کی سزا کے علاوہ 37000 روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ مختار انصاری کے خلاف پہلے ہی دس مختلف مقدمات درج ہیں۔ ان دس مقدمات میں سے چار گینگسٹر ایکٹ سے متعلق ہیں۔ مختار کو سپریم کورٹ کے حکم پر 7 اپریل 2022 کو پنجاب کی جیل سے یوپی کی باندہ جیل منتقل کیا گیا تھا۔