فتح پور: جمعیۃ علماء ضلع فتح پورکے جملہ اراکین منتظمہ ومدعوئین خصوصی کا ایک روزہ خصوصی اجلاس بمقام مدرسہ جامعۃ البنات تراب علی کا پوروہ شہر فتح پور میں زیرصدارت مولانا عبدالمعیدصدر جمعیۃ علماء ضلع فتح پورمنعقد ہوا۔ اجلاس میں مہمان خصوصی کے طور پر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء اتر پردیش شریک ہوئے۔اجلاس میں مقامی یونٹوں کو مزید مستحکم کرنے،دینی تعلیمی بورڈ، معاشرتی بیداری مہم چلانے، جمعیۃ اوپن اسکول، ملت فنڈ کا تعارف، سدبھاؤنا سنسدکا پروگرام، ماہ فروری میں ہونے والے مرکزی منتظمہ کے اجلاس میں شرکت کو یقینی بنانے سمیت دیگر امور پر غور کیا گیا۔قاری محمد ثوبان نے تلاوت قرآن پاک سے اجلاس کا آغاز کیا۔ ضلع جنرل سکریٹری حافظ محمد شہباز محمودی نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے سابقہ کارروائی رپورٹ پیش کی، جس پر تمام حاضرین نے سراہتے ہوئے اطمینان کا اظہارکیا۔
اجلاس کے صدارت فرما رہے مولانا عبدالمعید قاسمی فتح پوری نے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء کے کام کرنے کا جو طریقہ کار اور انداز ہے، اس طرح سے کام کرنے کا مزاج بنائیں۔ ہمیں کسی طرح کے اختلاف میں نہیں پڑنا ہے، سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔یاد رکھیں کہ جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ اپنے کردار کو بالکل صاف و شفاف رکھا ہے اور اپنا کام کرنے کاایسا طریقہ اختیار کہ کسی بھی طرح کی حکومت آئی ہو،کیسا بھی سماجی ماحول ہو،اپنا کام کرتی رہی ہے۔ جمعیۃ نے ہمیشہ بے داغ رہ کر ایک طرف تعمیر ملت تو دوسری طرف تعمیر وطن کا کام انجام دیاہے۔
اجلاس میں بطور مہمان خصوصی تشریف لائے جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے تمام حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے اگرآپ جمعیۃ علماء کے کاموں کو دین سمجھ کر کر رہے ہیں تو کریں ورنہ مت کریں۔ پہلے تو ہمیں اپنی سوچ،فکر اور اپنا کانسیپٹ بہت کلیئر کرنا پڑے گا کہ ہم جمعیۃ علماء کو کیا سمجھتے ہیں اور اس سے کیوں جڑے ہیں؟جب ہمارا ذہن اس طرح کی چیزوں سے صاف رہے گا تو ہم کسی کے تبصروں، طعنوں سے دلبرداشتہ نہیں ہوں گے۔ مولانا نے مقامی یونٹوں کے استحکام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء الگ سے کوئی چیز نہیں بلکہ ہم اور آپ جمعیۃ ہیں،ہم مضبوط ہوں گے توجمعیۃ مضبوط ہوگی، ہم کام کی لائن سے اپنے علاقہ میں خود کو مضبوط کرنے کی فکر کریں تو جمعیۃ علماء خود بخود مضبوط ہو تی چلی جائے گی۔ اسی کے ساتھ یہ یاد رکھیں کہ جمعیۃ علماء ہمارے آپ کے درمیان گاؤں،محلوں سے شروع ہوکر ضلع، صوبہ ہوکر دہلی تک جاتی ہے، ہم آپ ہی جمعیۃ علماء کی بنیاد ہیں۔ بڑوں کی رہنمائی میں ہمیں اپنے علاقہ سے کاموں کی شروعات کرنی ہے۔ اپنی میٹنگوں میں ایجنڈے اس طرح طے کریں کہ ہم آئندہ دو تین مہینوں کا ہدف متعین کر سکیں۔ امت کے ایک ایک فرد تک جمعیۃ کے کاموں کو پہنچانے کیلئے تحصیل سطح سے نیچے جاکر بلاک سطح پر بھی یونٹیں قائم کریں۔ جس علاقہ میں کام کریں، آپ کے پاس وہاں کا ڈاٹا موجود ہو، سکریٹریان کی ذمہ داریاں طے کریں،ایک دوسرے کے رابطہ میں رہیں۔ اس کے علاوہ مولانا نے میٹنگ کے ایجنڈوں دینی تعلیمی بورڈ، ملت فنڈ، جمعیۃ اوپن اسکول، سدبھاؤنا سنسد، اصلاح معاشرہ، دہلی اجلاس سمیت دیگر تعمیری پروگراموں کی اہمیت و افادیت پرتفصیل کے ساتھ گفتگو کی۔
میٹنگ کے دوران اتفاق رائے سے طے پایا گیا کہ جلد ہی ضلع میں عید کے فوراً بعد ضلع میں جمعیۃ اوپن اسکول کے تعلق سے ذمہ داران مدارس کا اجلاس منعقد کیا جائے گا، دینی تعلیمی بورڈ کے تعلق سے مقامی یونٹوں کے ذمہ داران مساجد و مکاتب کا سروے کرکے فروری مہینے کے آخر تک اپنی رپورٹ سونپیں گے، رمضان سے قبل سدبھاؤنا سنسد کی تاریخیں طے کی جائیں گی جس میں برادران وطن کی شرکت کیلئے خصوصی محنت کی جائے گی۔ ضلع بھر میں معاشرتی بیداری مہم چلانے کیلئے تاریخیں طے کرکے چھوٹے بڑے پیمانے پرپروگرام منعقد کئے جائیں گے۔ جو حضرات وقت فارغ کرکے دہلی اجلاس عام میں جانا چاہتے ہیں وہ ابھی سے نظام بنا لیں اور اپنا نام مع تصویر کے جمع کرکے مقامی ذمہ داران کے توسط سے دہلی ارسال کرنے کا اہتمام فرمائیں۔
مدرسہ جامعۃ البنات کے مہتمم مولانا فضل الرحمن قاسمی کی دعا پر اجلاس اختتام پذیرہوا۔ ناظم اجلاس ضلع جنرل سکریٹری حافظ محمد شہباز محمودی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مولانا امام الدین قاسمی، مولانا حمید حسن قاسمی، مولانا محمد مبین ثاقبی، مولانا عبد اللہ قاسمی، مولانا محمد غفران ندوی، مولانا محمد اسحاق قاسمی، مولانا محی السنہ قاسمی، حافظ محمد دانش، مولانا محمد سفیان قاسمی، حافظ محمد شمیم ثاقبی، مولانا محمد عمیر قاسمی، محمد انس قریشی، حافظ محمد ابراہیم، حاجی نعیم احمد، مولانا ظفر احمد، عتیق اللہ خاں، حافظ زین الحق، حافظ عبد الرحمن، حافظ جلال الدین، حافظ شمشاد، حافظ جابر، حافظ حمزہ، مولوی طلحہ محمودی کے علاوہ دیگر لوگ موجود تھے۔