بھوپال: وزیر اعلیٰ مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان نے آج کہاکہ سرکاری اسکولوں میں طلبہ کوہندو مذہبی کتب کی تعلیم دی جائے گی اوران قابل احترام کتابوں کی توہین کرنے کی کوشش کرنے والوں کوسخت وارننگ جاری کی۔انہوں نے کہاکہ ایسی حرکتوں کوبرداشت نہیں کیاجائے گا۔ سینئر بی جے پی قائدنے ایک ہندومذہبی کتاب’رام چرت مانس‘ کے بارے میں متنازعہ تبصروں کے پس منظرمیں یہ وارننگ دی ہے۔چوہان نے بھوپال میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قدیم ہندو مذہبی کتب انمول تحریریں ہیں اوروہ انسانوں کے اخلاقی کردارکی تعمیر میں مدد کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ رامائن، مہابھارت، وید اوربھگوت گیتا انمول مذہبی کتب ہیں۔ دیگر مضامین کے ساتھ ہم سرکاری اسکولوں میں ان مذہبی کتابوں کی بھی تعلیم دیں گے۔کیوں نہ ان کامطالعہ کیاجائے۔ چیف منسٹر نے16ویں صدی کے شاعر تلسی داس کی ستائش کی جنہوں نے رام چرت مانس جیسی تاریخی کتاب تحریر کی ہے۔واضح رہے کہ اترپردیش کے سماج وادی پارٹی لیڈر سوامی پرساد موریہ نے اتوارکے روز الزام عائد کیاتھاکہ رام چرت مانس کے چند حصے ذات پات کی بنیاد پر سماج کے ایک بڑے حصہ کی توہین ہے اوران پرامتناع عائد کیا جاناچاہئے۔