نئی دہلی: منگل کو پنجاب میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کے چھٹے دن سیکورٹی کی دو خلاف ورزیاں منظر عام پر آئی ہیں۔ اس معاملے میں پولیس نے دو نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے۔راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا پنجاب میں اپنے آخری مرحلے میں پہنچ گئی ہے۔ سیکیورٹی ادارے پہلے ہی پنجاب میں سیکیورٹی خطرات سے خبردار کر چکے ہیں۔ پنجاب میں، راہل گاندھی کو دیگر ریاستوں کے مقابلے میں اضافی پولیس سیکورٹی فراہم کی گئی ہے، جس میں انہیں زیادہ تر گاڑی سے سفر کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود آج صبح دو بار ان کی سیکورٹی میںکوتاہی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا آج صبح ہوشیار پور-پٹھانکوٹ روٹ پر تھی۔ اس دوران ایک نوجوان دسوہا کے قریب راہل گاندھی کے تین زمروں والے حفاظتی حصار کو توڑنے میں کامیاب ہوگیا۔ نوجوان سیکورٹی دائرہ توڑ کر سیدھا راہل کے پاس گیا اور انہیں گلے لگا لیا۔ راہل گاندھی بھی واقعات کے اچانک موڑ سے حیران رہ گئے۔ اس دوران پنجاب کانگریس کے سربراہ امریندر سنگھ راجہ ویڈنگ نے آگے بڑھ کر نوجوان کو پیچھے دھکیل دیا۔ موقع پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے مذکورہ شخص کو حراست میں لے کر یاترا نکالی۔کچھ دیر بعد جب یاترا بسی گاو¿ں کے ایک ڈھابے پر چائے کے لیے رکی تو راہل گاندھی نے سڑک پار کرنا شروع کر دی۔ اسی وقت سر پر کیسری صافہ پہنے ایک نوجوان آگے بڑھا اور راہل کے بالکل قریب آگیا۔ سیکورٹی اہلکاروں کو فوراً اس کا احساس ہوا۔ جس کے بعد نوجوان کو حراست میں لے لیا گیا۔ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ راہل کے پاس پہنچنے والے نوجوان آس پاس کے رہنے والے ہیں اور راہل سے ملنا چاہتے تھے۔ دریں اثنا، آج دو واقعات کے بعد پنجاب پولیس نے راہل کی سیکورٹی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔