بدایوں: ملک میں ارتداد کی لہر زورووں پر ہے، ہر دن کہیں نہ کہیں سے مسلم لڑکی کی مذہب اسلام ترک کرکے ہندو لڑکوں سے شادی کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ ایک ایسا ہی نیا معاملہ اترپردیش سے سرخیوں میں آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بدایوں کی رہنے والی ایک مسلم لڑکی نے ہندو مذہب اختیار کرکے ایک ہندو لڑکے سے شادی کرلی۔ جوڑے کا تعلق ایک ہی گاؤں سے ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ دونوں گزشتہ چار سالوں سے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ لیکن مذہب مختلف ہونے کی وجہ سے دونوں خاندان کے لوگ شادی میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ بدایوں کے پارولی گاؤں کا رہنے والا سومیش شرما اس وقت دہلی میں پرائیویٹ نوکری کرتا ہے۔ سومیش شرما اور علمہ کے دورمیان دوران تعلیم ہی دوستی ہوگئی تھی اور وہیں سے دونوں نے ایک ساتھ شادی کرنے کا من بنالیا تھا لیکن مذہب مختلف ہونے کے سبب دونوں کی شادی میں رکاوٹ پیدا ہورہی تھی۔ جس کے بعد دونوں نے گھر چھوڑ کر بریلی کے اگست منی آشرم میں ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کی۔علما نے اپنا نام بدل کر سومیا شرما رکھ لیا۔ 
جمعرات کی شام کو پنڈت کے کے شنکھدھر نے بریلی کے اگست منی آشرم میں ہندو رسم و رواج کے مطابق ان دونوں کی شادی کرائی۔ ہندو رسم و رواج کے مطابق جوڑے کی شادی کرنے والے پنڈت کے کے شنکھدھر نے بتایا کہ جوڑے نے ان سے رابطہ کیا اور اپنے بچپن کی دستاویزات دکھائے اور اپنی مرضی سے شادی کرنے کا حلف نامہ بھی دیا۔ جس کے بعد انہوں نے دونوں کی شادی کر دی۔واضح رہے کہ گزشتہ کل ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع شاجاپور میں ایک مسلم نوجوان نے ہندو مذہب اختیار کرلیا اور اپنا نام عارف سے آنند رکھ لیا۔ 
بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے شوریہ یاترا پروگرام کے موقع پر مسلم نوجوان کو بال منڈوانے کے بعد زعفرانی کپڑے پہنایا گیا اور مکمل ہندو رسم و رواج کے ساتھ ہندو مذہب میں داخل کرایا۔ مقامی لوگوں کے مطابق مسلم نوجوان نے ہندو لڑکی سے شادی کرنے کے بعد ہندو شدت پسند تنظیموں کی جانب سے دباو کے بعد مذہب تبدیل کیا ہے۔