حیدرآباد: آل انڈیامجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے مرکزی حکومت سے بابائے قوم مہاتماگاندھی کے قاتل نا تھورام گوڈسے پرآنے والی فلم پر امتناع عائد کرنے کامطالبہ کیا۔
حیدرآبادکے رکن پارلیمنٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھاکہ آیا وزیر اعظم نریندر مودی پر بی بی سی کی ڈاکیومنٹری پرجس طرح امتناع عائد کیاہے ٹھیک اس طرح سے گوڈسے پر آنے والی فلم پر بھی پابندی عائد کرے گی؟۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں مہاتماگاندھی جی اور ڈاکٹر امبیڈکر سے زیادہ کوئی بڑا نہیں ہوسکتا۔اویسی نے کہاکہ یہ ملک کسی دہشت گرد کو ہیرو کے طورپر پیش کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسد الدین اویسی‘اتوار کی رات پرانے شہر میں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے مرکز پرزوردیا کہ وہ اس فلم پرپابندی لگائے اور اس بات کوبھی یقینی بنائے کہ ملک کی کسی بھی تھیڑمیں یہ فلم ریلیزنہیں ہونی چاہئے۔ اویسی بظاہر راجکمارسنتوشی کی آنے والی فلم ”گاندھی‘گوڈسے ایک پدھ“ کا تذکرہ کررہے تھے۔یہ فلم شیڈول کے مطابق 26 جنوری کو ریلیزہونے والی ہے۔انہوں نے یاددلایا کہ 2013 میں حکومت نے بھندران والے پربنائی گئی ایک فلم پر پابندی عائد کردی تھی۔ انہوں نے پوچھا کہ آخر گوڈسے پربنی فلم پرامتناع عائد کیوں نہیں کیاجارہاہے۔ آپ کوگوڈسے سے تنی محبت کیوں ہے؟۔آخرکب تک زبان سے گاندھی جی کی ہمدردی اوردل میں گوڈسے سے ہمدردی کا سلسلہ کب تک چلتا رہے گا؟۔انہوں نے گوڈسے کوآزادہندوستان کا سب سے بڑا دہشت گرد قرار دیا۔ اویسی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مہاتما گاندھی کے قتل پراپنی رائے دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ہندوستان میں بی بی سی کی ڈاکیومنٹری پر عائد امتناع کا تذکرہ کرتے ہوئے اسی طرح گوڈسے پربنی فلم کی نمائش پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔