علی گڑھ : فرقہ وارانہ اعتبار سے حساس ترین شہر علی گڑھ میں پیر کی دیر رات معمولی تنازعہ پر دو فریقوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔ جس میں چھ افراد زخمی ہوگئے ہیں جن کا علاج مقامی اسپتال میں کیاجارہا ہے۔ ایک غیر مصدقہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہوائی فائرنگ بھی کی گئی لیکن پولیس کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ ‘ستیہ ہندی’ کے مطابق کشیدگی کے بعد علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ تاہم علی گڑھ سے جو تصدیق شدہ ویڈیوز سامنے آئی ہیں ان میں کچھ نوجوانوں کو پولیس کی موجودگی میں پتھراؤ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس کچھ نوجوانوں کو روکتی اور سمجھاتی نظر آرہی ہے۔ آر ایس ایس کا دفتر اس محلے میں ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔اے این آئی نے بتایا کہ علی گڑھ میں چکن بیچنے والے دکاندار سے کچھ لوگوں کی بحث کے بعد کم از کم دو افراد زخمی ہو گئے۔پولیس نے بتایا کہ دکان میں جھگڑے کی اطلاع پھیلنے پر دو فرقہ کے افراد آپس میں لڑ پڑے اور لوگوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔پولیس کے مطابق، ساسنی گیٹ تھانے کے علاقے میں سرائے سلطانی تھانے کے قریب ایک دکان کا مالک چکن فروخت کر رہا تھا۔جہاں کچھ تنازع ہوا اور مارپیٹ ہوگئی اس کی شروعات موٹر سائیکل پارک کرنے کے معاملے سے ہوئی۔ستیہ ہندی کے مطابق تاہم، علی گڑھ کے ضلع مجسٹریٹ اندرا وکرم سنگھ نے اے این آئی کو بتایا کہ پتھراؤ علی گڑھ میں ایک دکان سے گوشت خریدنے پر کچھ لوگوں کے درمیان جھگڑے کے بعد ہوا۔ کچھ لوگ گوشت کی دکان پر گئے۔ لوگوں اور دکاندار کے درمیان جھگڑا ہوا اور بعد میں پتھراؤ ہوا جس میں دو افراد زخمی ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو تمام زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ دکاندار اور گاہک مختلف فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ صورتحال قابو میں ہے اور جانچ کی جارہی ہے۔ واقعے کے بعد مختلف تھانوں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور حالات کو قابو میں کیا۔ اس معاملے میں پولیس کی تفتیش جاری ہے۔