ایودھیا: یوگی آدتیہ ناتھ کے اترپردیش میں پولس حراست میں موت کے معاملات مسلسل بڑھتے جارہے ہیں، تازہ ترین معاملہ ایودھیا کا ہے، کفیل ولد منو (۴۰) کو بھی پولس حراست میں مارے جارنے کا الزام عائد کیاجارہا ہے۔ کفیل کی اہلیہ گڑیا کا الزام ہے کہ چوری کے شک میں پولس نے اس کے شوہر کو حراست میں لیا تھا، جس کے بعد شام کو تھانے سے موت کی خبر آئی، الزام ہے کہ کوتوالی نگر تھانہ کے بچھڑا سلطان پور کا رہائشی پیشہ سے رکشہ چلانے والے کفیل کو چوری کے شک میں سادی وردی والے دو پولس والوںنے حراست میں لیا تھا۔ اہلیہ کا الزام ہے کہ جیسے ہی مجھے خبر ملی تو میں نے ۱۱۲ پر فون کیا، تو انہوں نے کہاتھانے جاکر رپورٹ درج کرائیں، لیکن تھانے میں بھی میری کوئی شنوائی نہ ہوئی ۔ الزام ہے کہ کفیل کی اہلیہ سے پولس نے سادے کاغذ پر دستخط بھی کروالیا تھا جس کے بعد شام کو تھانے سے فون آیا کہ آپ کے شوہر کی لاش لاوارث میں رکھی ہوئی ہے۔ حالانکہ اس معاملے میں ایودھیا پولس کا کچھ اور ہی کہنا ہے ، ایس پی سٹی کا کہنا ہے کہ کفیل اپنے گھر جارہا تھا، راستے میں سڑک پر گر گیا تھا، جسکے بعد لوگوں نے اسے اسپتال پہنچایا جہاں اس کی موت ہوگئی، موت کی وجہ بیماری بتائی جارہی ہے۔وہیں سی ای او سٹی شلیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ مہلوک کفیل کو چیتا موبائل کے سپاہی چوری کی ایک واردات میں پوچھ تاچھ کےلیے چوکی لے گئے تھے جہاں پوچھ تاچھ کرنے کے بعد اسے چھوڑ دیاگیا تھا، بتایا کہ چوکی سے کچھ دور جانے کے بعد کفیل بے ہوش ہوکر گر گیا، آس پاس کے لوگوں نے اسے ضلع اسپتال لے گیے جہاں اسے مردہ قرار دیاگیا۔ انہوں نے بتایاکہ منگل کو دو طبی اہلکارکے پینل کی موجودگی میں پوسٹ مارٹم کرایاگیا ہے، اس کی ویڈیو گرافی بھی کی گئی ہے، رپورٹ میں کسی طرح کے چوٹ کے نشان نہیں پائے گئے ہیں، موت کی وجہ ٹی بی کی بیماری بتائی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس تعلق سے کوئی شکایت موصول ہوتی ہےتو جانچ کرائی جائے گی۔ منگل کو دیر شام ایس پی سٹی مدھوبن سنگھ کے ذریعے جاری کیے گئےبیان میں بتایاگیا ہے کہ نوجوان صاحب گنج علاقے میں سڑک پر گرا ملا تھا، جسے مقامی لوگوں نے اسپتال میں داخل کرایا۔ وہیں کفیل کی اہلیہ گڑیا نے کہاکہ سوموار کی صبح تقریباً ۸؍ بجے بینی گنج ریلوے کراسنگ کے پاس ان کا ای رکشا کھڑا ملا تھا لیکن وہ نہیں ملے، اس کا کہنا تھا کہ وہ کرائے کا ای رکشہ چلاتے تھے، ای رکشا مالک کا کچھ پیسہ بقایاتھا جس کی وجہ سے وہ انہیں دھمکاتا تھا۔ اس نے شوہر کی گمشدگی درج کراکر انہونی کا خدشہ بھی ظاہر کیا تھا، اسے شام کو اطلاع موصول ہوئی کہ اس کے شوہر کی ضلع اسپتال میں موت ہوگئی ہے، آس پاس کے لوگوں سے پتہ چلا کہ چائے کی دکان پر چائے پینے کے دوران بائیک سے آئے دو لوگ اسے اپنی بائیک پر بٹھاکر لے گئے تھے۔ گڑیا نے ان ہی دونوں پر اپنے شوہر کے قتل کے الزام عائد کیے ہیں۔ ادھر کانگریس اقلیتی مورچہ کے قومی چیئرمین اور راجیہ سبھا کے رکن عمران پرتاپ گڑھی نے اترپردیش میں لاء اینڈ آرڈر پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہاکہ’’ یوپی میں نظم ونسق کی یہ حالت ہے کہ رکشک بھکشک (محافظ قاتل )بنے ہوئے ہیں اور حکومت تماش بین ہے، پولس حراست میں اموات عام ہوچکی ہیں، بعد میں افسران رٹا رٹایا جواب دیتے ہیں کہ موت بیماری سے ہوئی ہے، ایودھیا کے کفیل کو بھی پولس نے مار دیا‘‘۔