انقرہ: سویڈن کے انقرہ میں سفیر اسٹافن ہیرسٹروم کو وزارت خارجہ میں طلب کرتے ہوئے اسٹاک ہوم میں ترکیہ کے سفارت خانے کے سامنے قرآن کو نذرِ آتش کرنے کی اجازت دینے پر سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔اسٹاک ہوم میں ترک سفارت خانے کے قریب قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے عمل کی آج کے لیے اجازت دیے جانے کی اطلاع پانے پر سویڈن کے انقرہ میں سفیر کو کل دفتر ِ خارجہ طلب کیا گیا۔سفیر ہیرسٹروم سے کہا گیا ہے کہ زیر بحث اشتعال انگیز عمل، جو کہ واضح طور پر نفرت انگیز جرائم میں شمار ہوتا ہے، کی شدید مذمت کی جاتی ہے، سویڈن کا رویہ ناقابل قبول ہے، ترکیہ اس بات کی توقع کرتا ہے کہ اس کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور مقدس اقدار کی "جمہوری حقوق" کی آڑ میں توہین کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ہیرسٹرم کو یاد دلاتے ہوئے کہ آج علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK سے وابستہ حلقوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سٹاک ہوم کے مرکز میں ایک مظاہرہ کریں گے، یہ کہا گیا کہ دہشت گرد تنظیموں اور ان کے حامیوں کو پروپیگنڈہ سرگرمیوں کی اجازت دینا سہ فریقی عہد نامہ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ترکیہ گرینڈ نیشنل اسمبلی کے اسپیکر مصطفیٰ شنتوپ نے سویڈن میں منعقد کیے جانے والے اشتعال انگیز کارروائی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔مصطفیٰ سین ٹاپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیے گئے پیغام میں لکھا ہے کہ "اسٹاک ہوم میں ہمارے سفارت خانے کے سامنے قرآن کے خلاف 'نفرت انگیز کاروائی کی اجازت دینا نفرت آمیز جرائم میں سویڈش انتظامیہ کی شمولیت کا مظہر ہے۔"وزیر انصاف بیکر بوزداع اپنے ٹویٹر بیان میں کہا ہے کہ ترکیہ میں سٹاک ہوم کے سفارت خانے کے سامنے سویڈش پولیس کی جانب سے قرآن کو نذر آتش کرنے کی اجازت دینااہم تھا اور یہ عمل ایک غیر قانونی اقدام کے دائرہ کار میں آتا ہے۔صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے بھی اس معاملے پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ تمام تر انتباہ کے باوجود احتجاج کی اجازت دینے کا مطلب نفرت انگیز جرائم اور اسلامو فوبیا کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر چیلک نے کہا، "سویڈش حکام ایسے لعنتی اقدامات کی اجازت دے کر فاشزم کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔"