لکھنؤ: این آئی اے کے خصوصی جج نے عبداللہ سعود انصاری کو ضمانت دے دی ہے، جو مبینہ طور پر پی ایف آئی کنکشن کے الزام میں گرفتار کیے گئے تھے۔ حکومت کی جانب سے پی ایف آئی اور اس سے ملحقہ اداروں پر پابندی عائد کیے جانے کے چند دنوں بعد ملک گیر چھاپے اور گرفتاریاں ہوئیں۔ جس میںمبینہ طور پر پی ایف آئی سے کنکشن معاملہ میںعبداللہ سعود انصاری کو وارانسی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ 7/ جنوری کو معزز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، خصوصی جج این آئی اے / اے ٹی ایس لکھنؤ نے ملزم عبداللہ سعود انصاری کو ضمانت دے دی ہے۔عبداللہ انصاری 27 / سالہ غریب مزدور ہے جو روزی روٹی کے لیے کام کرتا ہے جس پر آئی پی سی اور یو اے پی اے کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے خلاف ایف آئی آر 2022/229پولیس اسٹیشن لوہٹا، ضلع وارانسی میںآئی پی سی کی دفعات 153A، اور 153B اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت معاملہ درج ہے۔حکومت ہند کی طرف سے کالعدم تنظیم پی ایف آئی کا ایک فعال رکن ہونے کے الزام میں عبداللہ سعود 30/ ستمبر 2022 سے جیل میں تھا۔ یہ الزام ہے کہ اپیل کنندہ سال 2017 سے پی ایف آئی کے ایک فعال رکن کے طور پر کام کر رہا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے دلیل دی کہ استغاثہ نے درخواست گزار کو جھوٹا پھنسایا ہے اور اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ وکیل نے دلائل میں یہ بھی کہا کہ درخواست گزار تفتیشی افسر کے ساتھ تعاون کے لیے متعلقہ تھانے گیا تاہم اہل خانہ کو بتائے بغیر اسے غیر قانونی طور پر حراست میں لے کر جوڈیشل ریمانڈ پر لیا گیا جو کہ ضابطہ فوجداری کی خلاف ورزی ہے۔مزید یہ دعویٰ کیا گیا کہ پولیس نے درخواست گزار پر بہت دباؤڈالا اور اس سے کئی خالی کاغذات پر دستخط کروائے۔ تاہم تفتیشی افسر کو ملزم کا کالعدم تنظیم سے تعلق ثابت کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ نہ ہی اس کے موبائل اور نہ ہی ریکارڈ پر موجود دیگر دستاویزات سے کوئی مشتبہ ملک دشمن سرگرمی کا انکشاف ہوا ہے۔معزز عدالت نے 50000/ کے مچلکوں اور اتنی ہی رقم کی 2 ضمانتوں پر ضمانت منظور کی ہے۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کی جانب سے  درخواست گزار کی نمائندگی  ایڈووکیٹ نجم الثاقب خان، ایڈوکیٹ عزیز اللہ خان، ایڈوکیٹ ساجد خان اور ایڈوکیٹ عبید اللہ خان نے کی۔