شکیل رشید 
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز) 
موہن بھاگوت کی باتوں پر ہنسی آتی ہے۔
 مسلمانوں کو نہیں ، تفوق کا شدید ترین احساس تو خود بھاگوت کو ہے ، نہ صرف بھاگوت کو بلکہ جس راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس )کے وہ سرسنگھ چالک ہیں ، اس کے ہر پرچارک اور ہر کارکن کو ہے ۔ اور یہی وہ احساس ہے جو اِس ملک میں مسلمانوں ہی نہیں ، تمام اقلیتوں ، دلتوں ، قبائلیوں اور نچلی ذات کے ہر طبقے کی زندگی کو ، اجیرن بنانے کا سبب بنا ہوا ہے ۔ بھاگوت اور آر ایس ایس کے دوسرے عہدیدار مسلمانوں کا نام زیادہ استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ نام لیے بغیر نہ ان کا کھانا ہضم ہو سکتا ہے اور نہ ہی ان کا منصوبہ شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے ۔ اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ وہ بھی ، جو سنگھ کے ہاتھوں دھوکہ کھا رہے ہیں ، مسلمانوں کے خلاف نفرت کی زبان سُن کر ، اپنی ساری تکلیف بھول کر مارے خوشی کے بغلیں بجانے لگتے ہیں ۔ موہن بھاگوت نے سنگھ کے ہندی و انگریزی ترجمان ’ پنج جنیہ ‘ اور ’ آرگنائزر ‘ کو جو انٹرویو دیا ہے ، اور اس میں جو باتیں کہی ہیں ، وہ سب کی سب مسترد کرنے والی ہیں ، اور یقیناً اس ملک میں رہنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد سنگھ کے ’ نظریات ‘ کو ، اس کی ’ سوچ ‘ کو مسترد کرتی چلی آئی ہے اور آج بھی مسترد کر رہی ہے ۔ لیکن اب وقت آیا ہے کہ اس کی ’ سوچ ‘ کو بلا کسسی جھجھک کے ، سامنے آکر مسترد کیا جائے ۔ بھاگوت نے اپنے انٹرویو میں کیا کہا ، اس سوال کا جواب ایک سطر میں یوں دیا جا سکتا ہے کہ ’ بھاگوت نے وہی باتیں کہیں جو وہ پہلے سے کہتے چلے آئے ہیں ۔‘ یہ کہ ’ مسلمان بغیر کسی ڈر کے یہاں رہیں ‘ ، ’ ہندو مذہب سب سے بہتر ہے ‘ ’ مسلمان چاہیں تو واپس اپنے اجداد کے دھرم میں آ سکتے ہیں ‘ یعنی ہندو دھرم اپنا سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن اس بار انھوں نے ، ایک بات کھل کر کہی ، جو وہ پہلے ڈھکے چھپے انداز میں کہتے تھے ، کہ مسلمان تفوق کا احساس چھوڑ دیں ، اپنی بالا دستی کا تذکرہ بند کریں ، برتری نہ جتائیں ۔ اب کوئی یہ بتائے کہ جو شخص ، اور جو تنظیم یہ کہتی ہو کہ ’ مسلمان بغیر کسی ڈر کے یہاں رہیں ‘ وہ شخص اور وہ تنظیم برتری کے احساس میں مبتلا کہلائے گی ، یا وہ مسلمان جنہیں وہ نہ ڈرنے کا مشورہ دے رہے ہیں ، اور یہ سمجھ کر دے رہے ہیں کہ ، ایک بار انھوں نے اپنے لوگوں سے کہہ دیا ، کہ مسلمانوں کو نہ ڈرائیں ، تو وہ مسلمانوں کو ڈرانا چھوڑ دیں گے ؟ ظاہر ہے کہ احساسِ برتری تو اُس شخص اور تنظیم ہی کو ہوگا نہ کہ اُسے ، جسے نہ ڈرنے کے لیے کہا جا رہا ہے ۔ اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں ہے ، سنگھ کے نظریہ ساز جو رہے ہیں ، وہ ہمیشہ اپنے تفوق کا راگ الاپتے رہے ہیں ۔ اس ملک میں کسی ایسے شخص کے بارے میں جو ’ ہندو ‘ نہ ہو سنگھ کی ’ سوچ ‘ ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ ساورکر کے عقیدے کے مطابق: ’’ شہریت مذہب کی بنیاد پر دی جائے‘‘۔ اس ’ سوچ ‘ کوسنگھ کے بانی کیشو بلی رام ہیڈگیوار نے عملی شکل دی اور اس کے بعد سنگھ کے دیگر بانیان اس ایجنڈے کو نہ صرف سنوارتے رہے بلکہ اسے عملی شکل دینے کے لیے کوشاں بھی رہے ۔ اس تعلق سے سینئر صحافی نلنجن مکھو پادھیائے نے اپنی انگریزی کتاب ’ دی آر ایس ایس آئکن ‘ میں ہیڈگیوار کے باب میں پہلے سرسنگھ چالک کی اس بات پر کہ تمام ہندستانی بلالحاظ مذہب ’ ہندو ‘ ہی ہیں ، زور دیتے ہوئے اسے ’ گھرواپسی‘ تحریک کی بنیاد قرار دیا ہے ۔ یہ تحریک لوگوں کو ’ ہندو دھرم ‘ میں داخل کراتی ہے ، اور جو داخل نہ ہو ، وہ ’ غیر‘ کہلاتا ہے۔ ہیڈگیوار کا یہی فلسفہ تقسیم ہند کے بعد ’ ملکی‘ اور ’ غیرملکی‘ میں بدل دیا گیاتھا ۔ ’’ساورکر کا یہ عقیدہ تھا کہ نظریاتی طور پر ، قومیت اور شہریت کو صرف شہری ہونے کی نہیں بلکہ اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر طے کیا جاسکتا ہے‘‘۔ آر ایس ایس کے دوسرے سر سنگھ چالک مادھو سداشیو گولوالکر تقسیم ہند کے بعد جو مسلمان بھارت میں رہ گئے تھے ، انھیں ’بچے کھچے‘ کہتے اوراس بات پر زور دیتے تھے کہ ہند و پاک کے درمیان ہندوؤں اور مسلمانوں کے تبادلے کا منصوبہ بنایا جائے تاکہ جو ’بچے کھچے‘ مسلمان ہیں ، انھیں بھارت سے نکالا جاسکے ۔ سنگھی نظریہ ساز شیاما پرشاد مکھرجی نےبھارتیہ جن سنگھ کے جنرل سیکرٹری آشوتوش لہری کو ہدایت دی تھی کہ ’’ اب ان مسلمانوں کو جو ’ہندو استھان‘ میں رہتے ہیں ہم یہاں سے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں ، کیونکہ اگر وہ رہے تو غداری ، تخریب کاری اور وطن دشمنی کریں گے‘‘۔ آر ایس ایس کے تیسرے سر سنگھ چالک بالاصاحب دیورس کا کہنا تھا کہ ’’مہاجر اور گھس پیٹھئے برابر نہیں ہوسکتے ، ہندو جو بنگلہ دیش سے آتے ہیں وہ الگ ہیں کیونکہ وہ مہاجر ہیں ، جو اپنے گھر سے اسلامی حکومت کے ہاتھوں ستائے جانے کی وجہ سے بھاگے ، اس لیے آسام کے ہندوؤں کو چاہیے کہ وہ ان کا خیرمقدم کریں ۔ لیکن بنگلہ دیشی مسلمانوں کا بالکل نہیں کیونکہ ان کی آمد سے آبادی کا توازن بگڑ جائے گا ‘‘۔ کیا یہ نسل پرستی نہیں ہے ؟ خود کو اعلیٰ سمجھنے کی ’ سوچ ‘ نہیں ہے ؟ کیا یہ احساسِ تفوق نہیں ہے ؟ بالکل ایسا ہی ہے ، لہٰذا یہ جو بھاگوت کہہ گیے یا آئے دن کہتے رہتے ہیں کہ اس ملک کے مسلمان بھی ہندو ہیں ، اسے اگر ’ احساسِ تفوق ‘ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا ، اس کا الزام مسلمانوں پر ڈالنا پورے طور پر غلط ہے ۔  
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اس ملک کا ہر شخص ہندو ہے ؟ میں اس سوال میں سے دو الفاظ ’ ہر شخص ‘ نکال دیتا ہوں ، اور ان کی جگہ ’ ہر مسلمان ‘ لگا دیتا ہوں ، کیونکہ ہر شخص کے بارے میں مَیں کوئی بات وثوق سے نہیں کہہ سکتا ، لیکن اتنا تو کہہ ہی سکتا ہوں کہ مسلمان اس وقت تک ، جب تک کہ وہ مسلمان ہے ، ’ ہندو ‘ نہیں ہے ۔ ہاں اگر کسی ’ مسلمان ‘ نے مذہب بدل لیا ہے تب بات الگ ہے ، جیسے کہ وسیم رضوی تیاگی ۔ بھاگوت پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ’’ تمام ہندوستانیوں کا ڈی این اے ایک ہے ۔‘‘ اپنی کتاب ’ مستقبل کا بھارت ‘ میں ایک جگہ وہ لکھتے ہیں ،’’ پرانی روایات ، قومیت ، مادرِ وطن اور اپنے اسلاف کے اعتبار سے ہم سب ہندو ہیں ۔ یہ ہمارا کہنا ہے اور یہ ہم کہتے رہیں گے ۔‘‘ بھاگوت کی اس ’ سوچ ‘ سے اختلاف کیا جا سکتا ہے ، بلکہ اختلاف کیا جانا چاہیے ، کیونکہ اس ملک کے مسلما ن خود کو ہندو نہیں کہلا سکتے ، اس لیے کہ ہندو اور اسلام دو الگ الگ مذاہب ہیں ، دونوں میں بڑا فرق ہے ۔ اگر کوئی مسلمان بھاگوت کی بات مان کر خود کو ہندو کہنے لگے تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ اب وہ مسلمان نہیں ہے ، لہٰذا یہ سوال اٹھے گا کہ کہیں بھاگوت کی منشا سارے مسلمانو ں کو ہندو بنانا تو نہیں ہے؟ اسی طرح یہ تو درست ہے کہ تمام ہندوستانی قوم کا ڈی این اے ایک ہے لیکن وہ جو یہ کہتےہیں کہ مسلمان عرب سے آئے ہیں ، انہیں بھاگوت کیا جواب دیں گے؟ بھاگوت تک یہ بات پہنچنا چاہیے کہ بھارت میں نہ مسلمان ڈر کر رہتے ہیں اور نہ ہی اسلام کو کوئی خطرہ ہے ، یہ تو سنگھ ہی کے لوگ ہیں جو ’ ہندو خطرے میں ہیں ، ہندو دھرم خطرے میں ہے ‘ کے نعرے لگاتے ہیں ۔ بہت سارے سوال ہیں جو بھاگوت سے پوچھے جا سکتے ہیں اور پوچھے جانے ضروری بھی ہیں ۔ بھاگوت اگر واقعی یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان اس ملک میں امن سے رہیں تو انہیں اپنی بات مسلمانوں پر تھوپنے سے بچنا ہوگا ، جبکہ ان دنوں بھاگوت یہی کر رہے ہیں ، اپنی بات مسلمانوں پر تھوپ رہے ہیں ۔ اس کا مقصد کیا ہے ؟ کیا ’ ہندو راشٹر ‘ میں سب ہی کو ’ ہندو ‘ کہنے کی یہ تیاری ہے ؟ یہاں میں ایک بار پھر انگریزی کے سینئر صحافی نلنجن مکھو پادھیائے کا ذکر کیے بغیر نہیں رہ سکتا ، انہوں نے اپنے ایک مضمون میں ایسے ہی سوالات اٹھائے ہیں ، اور سنگھ کے جھوٹ کا پردہ فاش کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’ بدلے ‘ ہوئے آر ایس ایس اور موہن بھاگوت کے لیے ’’ مسلمان اسی وقت ہندوستانی ہیں جب وہ ہندو ہیں ۔‘‘ اور یہی بات سچ ہے ، باقی سب صرف اور صرف جھوٹ ہے۔