Latest News

’مذہب نہیں ملک کو ذہن میں رکھیں‘، مغلیہ تاریخی مقامات کا نام بدلنے سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ کا سخت تبصرہ، عرضی خارج۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سوموار کو بی جے پی رکن اور ایڈوکیٹ اشونی اپادھیائے کے ذریعہ دائر مفاد عامہ کی عرضی (PIL) پر غور کرنے سے انکار کردیا۔ درخواست میں عرضی گزار نے مغل اور مسلم حکمرانوں سے منسوب تاریخی مقامات اور عمارتوں کا نام اور ان کی شناخت بدلنے کے لیے وزارت داخلہ کو کمیشن قائم کرنے کے لیے ہدایت دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس بی وی ناگارتنا کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ یہ تاریخ کا حصہ ہے اور اسے چن چن کر ہٹایا نہیں جا سکتا۔ اس لیے ہمیں دیگر سنگین مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جن کا ہمارا ملک سامنا کر رہا ہے۔ جسٹس جے ناگرتنا نے کہا کہ آپ اس سے کیا حاصل کرنے جا رہے ہیں؟ آپ کیوں چاہتے ہیں کہ وزارت داخلہ ایک کمیٹی بنائے اور اس پر توجہ دے؟ اور بھی بہت سے مسائل ہیں۔ جسٹس جوزف نے کہا کہ 'آپ مخصوص انداز میں ماضی میں واپس جا رہے ہیں۔ آخر کیا حاصل ہو گا؟ بھارت کا آئین ملنے کے بعد ہم ایک جمہوری ملک بن گئے ہیں۔ آپ ایک خاص کمیونٹی پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ آپ اس راستے پر چلنا چاہتے ہیں جہاں بھارت ایک سیکولر ملک نہیں ہے۔ ہر کسی کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسی درخواست سے مزید دراڑ پیدا ہوگی۔ جسٹس ناگارتنا نے کہا 'ہندوتوا ایک طرز زندگی ہے۔ بھارت نے سب کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے، چاہے وہ حملہ آور ہو یا دوست۔ آپ کو معلوم ہے کہ انگریزوں نے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کیسے شروع کی۔ ایسی درخواستوں کے ذریعے دوبارہ ایسا نہ کریں۔ ملک کو ذہن میں رکھیں، مذہب کو نہیں۔ عدالت نے کہا کہ 'کوئی ملک ماضی کی قید میں نہیں رہ سکتا اور بھارت میں صرف اس لیے جمہوریت نہیں ہے کہ اس کا ایک صدر ہے بلکہ جمہوریت میں تمام طبقات کے لوگ شامل ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ملک کے لیے ضروری ہے کہ سب مشترکہ اہداف حاصل کرنے کے لیے مل کر آگے بڑھیں جو ہدایتی اصولوں میں درج ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جو ملک کو ایک دھاگے میں باندھ دیں۔عدالت نے کہا کہ کسی بھی قوم کی تاریخ موجودہ اور آنے والی نسلوں کو اس حد تک پریشان نہیں کر سکتی کہ آنے والی نسل ماضی کی قیدی بن جائے۔ عرضی گزار اشونی اپادھیائے بار بار یہ دلیل دے رہے تھے کہ ویدوں میں ایسے شہروں کا ذکر ہے جو بعد میں حکمرانوں کے نام پر رکھے گئے۔ عدالت نے کہا کہ ہندو مذہب سب سے بڑا مذہب ہے اور اس کی عظمت کو کم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک عیسائی ہوں لیکن میں ہندو مذہب سے اتنا ہی متاثر ہوں اور میں پڑھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ براہ کرم لوگوں کو خود فیصلہ کرنے دیں۔ جسٹس ناگارتنا نے کہا کہ 'اسے زندگی کا طریقہ کہا جاتا ہے اور ہندوتوا میں کوئی تعصب نہیں ہے ۔ جسٹس جوزف نے کہا کہ 'ہمارے پاس بہت صلاحیت ہے، براہ کرم مستقبل پر توجہ دیں ۔ اپادھیائے نے مغل حکمرانوں سے منسوب مختلف جگہوں کے نام پر اعتراض کیا اور کہا کہ حکومت نے اس کے بارے میں کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے بنیادی طور پر اورنگ زیب کے بارے میں بات کی جن کے نام پر جگہوں، سڑکوں وغیرہ کا نام رکھا گیا ہے۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر