Latest News

جنیداور ناصر کے قتل کا مرکزی ملزم سوشل میڈیا پر فعال، پولس کی گرفت سے ہنوز دور۔

بھرت پور: ہریانہ کے بھیوانی ضلع میں دو مسلم نوجوانوں کو زندہ جلانے کے معاملے کے مرکزی ملزم مونو مانیسر کو پولیس ابھی تک گرفتار نہیں کر پائی ہے۔ جبکہ مونو سوشل میڈیا پر ایکٹو ہے۔ ہریانہ پولس کے افسران اور مرکزی وزرا کے ساتھ اس کی تصویریں منظر عام پر آ رہی ہیں۔ اس کی ہتھیاروں کے ساتھ ویڈیو بھی وائرل ہے۔ تاہم، صرف راجستھان پولیس ہی مونو کو تلاش کر رہی ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے الزام لگایا ہے کہ ہریانہ حکومت، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد مل کر مونو مانیسر کی حفاظت کر رہے ہیں۔راجستھان پولیس نے جمعہ کو اس معاملے میں میوات سے رنکو سینی نامی شخص کو گرفتار کیا ہے۔ رنکو سینی اور مونو مانیسر کو زندہ جلائے گئے ناصر اور جنید کے خاندان کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق رنکو سینی مرکزی ملزم مونو مانیسر کا قریبی ہے۔ پولیس رنکو سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ رنکو گائے کے محافظوں کے ایک گروپ میں ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کرتا تھا۔جمعرات کو بھیوانی کے لوہارو میں ایک جلی ہوئی بولیرو گاڑی سے دو کنکال ملے تھے۔ کار کا انجن رجسٹریشن نمبر اسی دن راجستھان کے بھرت پور میں درج لاپتہ شخص کی ایف آئی آر سے پتہ چلا۔ اس کے بعد دونوں ریاستوں کی پولیس نے قتل کیس کو حل کرنے کے لیے بات چیت کی۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر