نئی دہلی: لوک سبھا کی رکنیت ختم ہونے کے بعد پہلی مرتبہ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے آج دہلی میں ۲۸ منٹ کی طویل پریس کانفرنس کی۔ہندوستانی جمہوریت خطرے میں ہے، راہل نے اسی لائن کے ساتھ اپنی بات کی شروعات کی، اس کے بعد انہو ںنے سوال کیا کہ اڈانی اور مودی کا کیا رشتہ ہے؟ انہوں کیمبرج یونیورسٹی میں جمہوریت پر کہی اپنی بات اور سبھی چوروں کا سرنیم مودی کیوں ہوتا ہے والے بیان پر صفائی بھی دی، راہل نے پریس کانفرنس میں ۱۶ بار مودی جی، ۹ بار وزیر اعظم، اور ۳۸ بار اڈانی کا نام لیا، انہوں نے مستقبل کا لائحہ عمل بھی بتایا۔ انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کو اس بات کی قطعی پرواہ نہیں کہ ان کی رکنیت پوری زندگی کے لئے ختم کر دی جائے، لیکن وہ عوام سے جڑے سوال پوچھتے رہیں گے۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر زور دے کر کہا کہ ان کی رکنیت ختم کرنے کی وجہ ان کا ایوان میں وزیر اعظم اور اڈانی کے رشتوں کے بارے میں سوال پوچھنا تھا۔انہوں نے کہاکہ مودی اور اڈانی پر میری اگلی اسپیچ سے ڈر گہے ہیں، میںنے یہ ان کی آنکھوں میں دیکھا ہے، اس لیے پہلے مسائل سے دھیان بھٹکایاگیا، اس کے بعد مجھے نااہل قرار دیاگیا۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے لوک سبھا سے انہیں نااہل قرار دینے کی کارروائی پر اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کے لئے ہفتہ کو شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی سے اپوزیشن کو ایک بڑا ہتھیار مل گیا ہے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کے خلاف اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کرنے پر امید ظاہر کی ہے۔لوک سبھا سے ان کی نااہلی کی اطلاع ملنے کے ایک دن بعد یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا، میں تمام اپوزیشن جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اور امید ظاہر کرتا ہوں کہ ہم سب مل کر کام کریں گے۔انہوں نے کہا میری رکنیت ختم ہونے سے اپوزیشن کو ایک بڑا ہتھیار ہاتھ لگ گیا ہے، کیونکہ عوام بخوبی واقف ہے کہ اڈانی جی ایک بدعنوان شخص ہیں۔ عوام خود سوال اٹھا رہی ہے کہ وزیراعظم اس بدعنوان شخص کو کیوں بچا رہے ہیں؟گاندھی کے مطابق، ’’بی جے پی ممبران کہہ رہے ہیں کہ اڈانی پر حملہ ملک پر حملہ ہے، تو کیا ملک اڈانی ہے اور اڈانی ہی ملک ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے صحافیوں سے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ اڈانی کی شیل کمپنی میں ۲۰ ہزار کروڑ روپے کس نے لگائے ہیں۔ ایوان کے خطاب میں، جس کے بیشتر حصے ریکارڈ سے ہٹا دئے گئے ہیں، انہوں نے پوچھا تھا کہ وزیر اعظم کے اڈانی سے کیا تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور اڈانی کے تعلقات کوئی نئے نہیں ہیں کیونکہ ان کے تعلقات اس وقت سے ہیں جب وزیر اعظم گجرات کے وزیر اعلی ہوا کرتے تھے۔راہل گاندھی نے کہا کہ او بی سی اور دیگر موضوعات کے ذریعہ مرکزی ایشو سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں یہ لوک سبھا کی رکنیت ختم کرنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ان کے تعلق سے ایک بے بنیاد بات کہی گئی کہ لندن میں انہوں نے بیرون ممالک سے ملک کی جمہوریت بچانے کے لئے مدد مانگی ہے اور یہ بھی ان کے مرکزی سوال یعنی اڈانی اور وزیر اعظم کے رشتوں کے متعلق پوچھے گئے سوالوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش تھی۔راہل گاندھی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ مرکزی سوال یہی ہے کہ اڈانی کی کمپنی میں پیسہ کس کا ہے کیونکہ یہ اڈانی کا تو ہو نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اس سوال سے خوفزدہ ہیں کہ ان کے اور اڈانی کے رشتوں کے بارے میں نہ پوچھا جائے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ بھی جانتے ہیں کہ اڈانی اور وزیر اعظم کے کیا رشتے ہیں لیکن سب خوفزدہ ہیں اور انھیں اس مرکزی سوال سے توجہ ہٹانے کے لئے کہا گیا ہے۔معافی مانگنے کے سوال کے جواب میں راہل گاندھی نے کہا کہ وہ ساورکر نہیں ہیں، وہ گاندھی کے ماننے والے ہیں اور گاندھی کبھی جھوٹ نہیں بولتا اور معافی نہیں مانگتا۔ انہوں نے اس موقع پر وزارت دفاع کے تعلق سے بھی سوال اٹھائے کہ وہاں کس مد میں کون سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ان کی رکنیت ختم کر کے بی جے پی نے انہیں تحفہ دے دیا ہے۔ عوام میں یہ بات عام ہے کہ اڈانی پر بدعنوانی کے الزامات ہیں اور ایسے میں وزیر اعظم اڈانی کو کیوں بچا رہے ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے کئی مرتبہ کہا کہ وہ اڈانی اور وزیر اعظم کے رشتے کے تعلق سے سوال کرتے رہیں گے۔کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نےایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہاکہ اگر کانگریس کے کسی وزیر اعلی نے اڈانی کی شیل کمپنی میں بیس ہزار کروڑ روپے لگائے ہیں تو ان کو بھی سزا ملنی چاہئےاور ان کو بھی ملنی چاہئے جن کا یہ پیسہ ہے۔ راہل گاندھی نے اس موقع پر حزب اختلاف کا ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے شکریہ ادا کیا۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ وہ وائناڈ پارلیمانی حلقہ کے عوام کو ایک خط لکھنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور ان کو امید ہے کہ وہ لوگ سمجھ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں جواب دینے کے تعلق سے انہوں نے خط بھی لکھے اور اسپیکر سے ملاقات بھی کی لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا اور ان کو بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔