Latest News

مدرسہ بورڈ کے چیئرمین اور ممبران مسلمان ہی کیوں؟ الہ آباد ہائی کورٹ کا یوپی حکومت سے سوال، حق تعلیم قانون سے استثنیٰ پر بھی وضاحت طلب۔

الہ آباد: ریاست اترپردیش کے مدارس نہ صرف حکومت کے نشانہ پر ہیں بلکہ عدالت میں بھی مدارس اور ان کے انتظامات کے حوالے سے کئی اعتراضات دائر کیے گئے ہیں۔ ان اعتراضات پر سماعت کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے حکومت سے پوچھا ہے کہ مدرسہ بورڈ کے چیئرمین اور دیگر ممبران مسلمان ہی کیوں ہوتے ہیں اور مدارس کو حق تعلیم قانون سے کیوں استثنیٰ رکھا گیا ہے۔ یہ سوال وویک سبھاش چودھری اور جسٹس سبھاش ودیارتھی کی مشترکہ بنچ نے پوچھا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 23 جنوری کو مقرر کی گئی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں ایڈوکیٹ انشومان سنگھ راٹھوڑ نے حق تعلیم قانون 2009 کے سیکشن 2 اور مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ 2004 کو منسوخ کرنے کی درخواست دائر کی اور مرکزی اور صوبائی حکومت کے ساتھ مدرسہ بورڈ کو فریق بنایا۔ اس کے بعد سے لکھنؤ بنچ میں اس کیس کی سماعت چل رہی ہے اور دونوں فریق کئی تاریخوں پر پیش ہو چکے ہیں۔کل اس کیس کی سماعت ہوئی جس میں جسٹس وویک چودھری اور جسٹس سبھاش ودیارتھی کی ڈویژن بنچ نے ریاست میں نافذ یوپی مدرسہ تعلیمی بورڈ ایکٹ 2004 پر سوالات اٹھائے۔بنچ نے ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ یوپی مدرسہ بورڈ سے پوچھا ہے کہ مدرسہ بورڈ کے چیئرمین کے لیے ایک مسلم ماہر تعلیم اور دیگر اراکین کا مسلم کمیونٹی سے ہونا کیوں لازمی قرار دیا گیا ہے؟ عدالت نے مرکزی حکومت سے بھی وضاحت طلب کی ہے کہ تعلیم کے حق قانون 2009 کے تحت مدارس اور ویدک اسکولوں کو مستثنیٰ کیوں رکھا گیا ہے۔ یوپی مدرسہ بورڈ کی جانب سے ایڈوکیٹ افضال احمد صدیقی اور ٹیچرس ایسوسی ایشن مدرسہ عربیہ اتر پردیش کی جانب سے پیش ہوئے ایڈوکیٹ مہیندر بہادر سنگھ نے بتایا کہ عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ سکولر ملک میں کسی بھی سرکاری ادارے میں نامزدگی کے لئےمسلم ہونے کی شرط کیسے لگائی جا سکتی ہے اور اگر وہ کوئی اقلیتی ادارہ ہے تو اس کے افسران سکھ، عیسائی، جین اور بودھ فرقہ کے لوگ کیوں نہیں ہو سکتے؟ایڈوکیٹ مہیندر بہادر سنگھ نے یہ بھی کہا کہ عدالت یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ مدارس اگر اقلیتی بہبود کے تحت چلتے ہیں تو غیر اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے اور مدرسہ تعلیم سے ناواقف افسران اس محکمہ میں کیسے کام کرتے ہیں؟ غیر ماہر اہلکار کیسے مدارس کو بہتر تعلیم فراہم کر رہے ہیں اور حکومت جدید تعلیم کے بغیر مدارس کے طلباء کا مستقبل کیسے سنوار سکتی ہے؟ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب یوپی کے مدارس پہلے یوپی محکمہ تعلیم کے تحت چلتے تھے تو انہیں اس محکمہ سے الگ کرنے اور الگ بورڈ بنانے کی کیا ضرورت تھی۔ جبکہ محکمہ تعلیم میں بی ایڈ، ایل ٹی گریڈ کے افسران ہیں جو بہتر تعلیمی انتظام کے ماہر ہوتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ 2004 کے مطابق چیئرمین کو روایتی مدرسہ تعلیم کے میدان میں ایک نامور ماہر تعلیم ہونا چاہیے، جب کہ دیگر اراکین ایک سنی اور ایک شیعہ رکن یو پی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کے منتخب شخص ہوں گے۔اسی طرح، ایک ایک ممبر سنی و شیعہ مدرسہ کے پرنسپل ہوں گے جنہیں حکومت نامزد کرے گی۔ ایڈوکیٹ مہیندر بہادر سنگھ کا کہنا ہے کہ عدالت نے ارکان اسمبلی کی جانب سے مدرسہ بورڈکے ارکان کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور وہ جاننا چاہتی ہے کہ مدرسہ بورڈ کے اراکین کے انتخاب کے لیے اسمبلی اراکین کی تعلیمی صلاحیت کس طرح موزوں ہو سکتی ہے؟ قابل ذکر ہے کہ ٹیچرس ایسوسی ایشن مدرسہ اترپردیش بھی مذکورہ معاملے میں فریق ہیں۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری دیوان صاحب زمان خان کا کہنا ہے کہ انشومان سنگھ راٹھوڑ بمقابلہ حکومت ہند اور دیگر مقدمے میں گزشتہ 18 جنوری کو ہوئی سماعت پر کہا گیا کہ انشومان سنگھ کی رٹ قابل قبول نہیں ہے کیونکہ وہ نہ تو متاثرہ فریق ہیں اور نہ ہی ان کا مدارس سے کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ بورڈ ایکٹ 2004 میں نافذ ہوا اور اب 20 سال بعد اس پر سوال اٹھانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ایسوسی ایشن نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ مدارس اور سنسکرت پاٹھ شالائیں ایجوکیشن کوڈ کے ایک ہی باب قدیم زبانوں کے ادارے (اور انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل لینگویج انسٹی ٹیوشن) کے تحت قائم ہوئی ہیں اور انہیں گرانٹ دی جاتی ہے۔لیکن سوال صرف مدارس پر ہی اٹھایا جاتا ہے، جو کہ تشویشناک ہے۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر