Latest News

نفرت پر مبنی ٹی وی نشریات کے خلاف این بی ڈی ایس اے کی کارروائی مثبت لیکن ناکافی قدم: مولانا محموداسعد مدنی، ایسے پروگراموں پر نگاہ رکھنے کے لیے علیحدہ کمیٹی تشکیل دی جائے اور سو موٹو ایکشن لیا جائے۔

 نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈز اتھارٹی (این بی ڈی ایس اے) کی طرف سے ٹی وی چینلوں کے خلاف اٹھائے گئے حالیہ اقدامات کو ان حقائق پر مہرلگانے سے تعبیر کیا ہے جن کی طرف عرصے سے جمعیۃ علماء ہند اور ملک کی دوسری باشعور جماعتیں سرکارکو متوجہ کرتی رہی ہیں۔لیکن سیاسی مفادات کو راشٹر پر فوقیت دیتے ہوئے ایسے پروگراموں کو نہ صرف چلنے دیا گیا بلکہ حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔
 واضح ہو کہ 28فروری کو منعقد ایک اہم میٹنگ میں معزز جسٹس (ریٹائرڈ) اے کے سیکری کی صدارت میں این بی ڈی ایس اینے ضابطہ اخلاق اور نشریاتی معیار کی سنگین خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ٹی وی چینل نو بھارت ٹائمس، نیوز 18ہندی اور آج تک سے گزشتہ دو سالوں میں ’مسلم مخالف‘نشر ہونے والی ویڈیوز ہٹانے کی ہدایات جاری کی ہیں اور نسلی اور مذہبی ہم آہنگی سے متعلق مخصوص رہنما اصول کو اجاگر کرتے ہوئے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
 مولانا محمود مدنی نے این بی ڈی ایس اے کے اقدام کو ذمہ دارانہ صحافت کی طرف ایک مثبت قدم سے تعبیر کیا ہے، تاہم انھو ں نے کہا کہ صرف اس قدر کارروائی اطمینان بخش نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سزا کی نوعیت اور جرمانہ کی مقدار کافی کم ہے، دوسری بات یہ ہے کہ صرف فیصلہ سنانا کافی نہیں ہے۔ یہ ضروری ہے کہ مستقبل میں ایسے اینکروں او رٹی چینلوں پر کڑی نگاہ رکھنے کے لیے ایک علیحدہ کمیٹی تشکیل دی جائے اورکسی کی شکایت کا انتظار کیے بغیر سو موٹو ایکشن لیا جائے۔
 مولانا مدنی نے کہا کہ میڈیا پلیٹ فارمز کو کسی بھی مخصوص کمیونٹی کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کے لیے صاف طور پر جواب دہ بنایا جانا ضروری ہے، بالخصوص ان اینکروں کو برطرف کیا جائے جو لگاتار ایک کمیونٹی کو نشانہ بنار ہے ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جن ٹی وی اینکروں کی نشاندہی کی گئی ہے وہ دس سال سے نفرتی شوز کررہے ہیں، ان پر ماضی میں بھی جرمانہ عائد کیا گیا ہے، لیکن وہ باز نہیں آئے اور کسی بھی جزوی واقعہ کو ایک کمیونٹی سے وا بستہ کرنے کی شرارت پر مصر ہیں۔ یہی روش شردھاواکر قتل میں اختیار کی گئی،جس کو ٹی وی اینکر نے ’لو جہاد‘ جیسے مفروضہ کا نام دے کر ملک میں ہند و مسلم کے درمیان گھناؤنی دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی تھی۔ این بی ڈی ایس اے نے یہ بات بجا کہی ہے کہ اس طرح کے دقیانوسی اور خودساختہ تصورات سیکولر تانے بانے کو خراب کر سکتے ہیں اور ایک خاص کمیونٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔مولانا محمود مدنی نے اس تناظر میں زور دیا کہ ہمیں فرقہ وارانہ مسائل میں زیادہ حساسیت اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، تا کہ متنوع معاشرے میں بدامنی پرورش نہ پائے۔

سمیر چودھری۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر