Latest News

یوگی کے وزیر نے مختار انصاری کو بتایا غریبوں کے مسیحا، کہا میں اپنے بیان پر قائم، مختار انقلابی شخصیت کے مالک تھے۔

لکھنؤ: مختار انصاری کو ان کے آبائی گاؤں محمد آباد کے کالی باغ قبرستان میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ اس پر طویل خاموشی کے بعد اب اپنے بیانات اور بار بار اتحادی بدلنے کے لئے مشہور یوپی کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت میں کابینہ وزیر اور ایس بی ایس پی سربراہ اوم پرکاش راجبھر کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے مختار کو غریبوں کا مسیحا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک انقلابی شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے ان کے بارے میں جو بھی بیان دیا ہے اس پر قائم ہوں۔‘‘
ایس بی ایس پی کے سربراہ اوم پرکاش راجبھر نے مختار انصاری کے بارے میں ایک نیوز چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے اور خدا کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔ ڈاکٹروں نے ان کی میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر کہا ہے کہ انہیں ہارٹ اٹیک آیا تھا۔ حکومت نے خاندان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، جو بھی ہوگا سامنے آئے گا۔
مختار کو زہر دینے کے الزام پر راجبھر نے کہا، ’’انہوں نے عدالت میں اس کا ذکر کیا تھا، عدالت نے اس کا نوٹس بھی لیا تھا اور کہا تھا کہ اس کی تحقیقات کی جائے گی لیکن اسی دوران یہ واقعہ پیش آیا۔ عدالت کے حکم پر 3 افسران کو معطل بھی کیا گیا ہے۔‘‘
خیال رہے کہ مختار انصاری کے بیٹے عباس انصاری ان کی جماعت ایس بی ایس پی سے رکن اسمبلی ہیں۔ اس پر اوم پرکاش راجبھر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس دستیاب اعداد و شمار کے مطابق وہ ہماری پارٹی میں ہیں، لیکن انہوں نے اکھلیش یادو کی درخواست پر عباس انصاری کو اپنی پارٹی کا نشان دیا تھا۔
اوم پرکاش راجبھر نے کہا کہ جب بھی غریبوں پر ظلم ہوگا، جو بھی غریبوں کے ساتھ کھڑا نظر آئے گا اسے غریبوں کا مسیحا کہا جائے گا۔ مختار انصاری کے حوالے سے کئی لوگوں کے بیانات آئے ہیں کہ انہوں نے ہماری جان بچائی، ہماری مدد کی، جب انہوں نے غریبوں کی مدد کی ہے تو یقیناً وہ غریبوں کے مسیحا ہوں گے ہی۔ راجبھر نے اعتراف کیا کہ انہوں نے مختار انصاری کو انقلابی کہا تھا اور وہ اب بھی اس بیان پر قائم ہیں۔
اوم پرکاش راجبھر کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب وہ این ڈی اے کے حلیف ہیں اور اس معاملے پر بی جے پی کا موقف بالکل مختلف ہے۔ اس سے قبل جمعہ کو وہ مختار پر کوئی رد عمل دینے سے گریز کرتے نظر آئے تھے۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر