Latest News

غازی پور پہنچ کر اسدالدین اویسی نے مختار انصاری کے بیٹے عمر انصاری کو گلے لگایا، بولے انشاء اللہ ان اندھیروں سے روشنی پھوٹے گی۔

محمد آباد: مختار انصاری کیلے انتقال پر اے آئی ایم آئی ایم کے قومی صدر اسدالدین اتوار کی رات دیر گئے اظہار تعزیت کرنے پہنچے جہاں انہوں نے گیٹ پر مختار انصاری کے بیٹے عمر انصاری کو گلے لگایا۔ ساتھ ہی ساتھ میں کھانا بھی کھایا۔ چالیس منٹ تک بات چیت ہوئی۔
دوسری طرف جب اویسی کی آمد کی خبر ملی تو حامیوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ مختار انصاری کے بھتیجے اور ایم ایل اے شعیب انصاری نے مائیک لے کر لوگوں سے وہاں سے نکل جانے کی اپیل کی۔ دوسری جانب پولیس نے دوبارہ گیٹ کے قریب رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ اس کے علاوہ فورسز کو تعینات کیا گیا اور میڈیا کے اہلکاروں کو بھی بیریکیڈز سے باہر لے جایا گیا۔ 
ملاقات کے بعد اویسی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ غازی پور میں مرحوم مختار انصاری کے گھر گئے اور ان کے اہل خانہ کو تسلی دی، اس مشکل وقت میں ہم ان کے اہل خانہ، حامیوں اور چاہنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انھوں نے شاعرانہ انداز میں کہا، "انشاء اللہ ان اندھیروں سے روشنی پھوٹ جائے گی، تم فرعون ہو اور موسیٰ بھی ضرور آئیں گے۔”
صدر آل انڈیا اتحاد المسلمین اسد الدین اویسی نے آج تعزیت پیش کرنے کے لیے غازی پور میں مختار انصاری کے مکان کا دورہ کیا۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اتوار کی رات دیر گئے انصاری کے مکان پہنچے۔
اسد الدین اویسی اتوار کے دن لوک سبھا انتخابات سے قبل اپنا دل (کمیرا وادی) جو اپوزیشن انڈیا اتحاد سے تعلقات ختم کرکے اے آئی ایم آئی ایم سے تعلقات استوار کیا ہے کے ساتھ ایک مشترکہ محاذ کے قیام کے لیے لکھنؤ آئے تھے۔
دونوں پارٹیوں نے مل کر پی ڈی ایم نیائے مورچہ شروع کیا ہے جو بچھڑے طبقات دلتوں اور مسلمانوں کے لیے انصاف دلانے کا محاذ ہوگا۔ مختار انصاری کو ہفتہ کے دن سخت سیکوریٹی کے دوران غازی پور میں سپردِ لحد کیا گیا۔ اس دوران ایک بڑا ہجوم زبردستی قبرستان میں داخل ہوا تھا۔ پولیس کو نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے سخت کوشش کرنی پڑی تھی۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر