آگرہ: مسجد نہر والی، سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے آج خطبۂ جمعہ کے دوران آنے والے ماہِ رمضان المبارک کو ایک ہمہ گیر تربیتی مہینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ رمضان دراصل تقریباً 720 گھنٹوں کا ایسا کورس ہے جو انسان، گھر، سماج بلکہ پوری امت کی اصلاح اور کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رمضان کے آتے ہی صرف فرد ہی نہیں بلکہ پورا معاشرہ بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ مسجدوں میں صفائی ستھرائی، صفوں کا بہتر انتظام، عبادات کا خصوصی اہتمام اور مسلم علاقوں میں ایک الگ روحانی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ گھروں میں خواتین بھی اسی طرح تیاریوں میں مصروف دکھائی دیتی ہیں، جیسے کسی معزز مہمان کی آمد ہو—اور حقیقت میں رمضان ہماری زندگی میں آنے والا ایک عظیم مہمان ہی ہے۔
خطیب محمد اقبال نے کہا کہ اس مہینے میں ہمیں وقت کی پابندی، صبر، ایثار اور نظم و ضبط کی عملی تربیت دی جاتی ہے۔ ایک مقررہ وقت پر سحری، پورا دن بھوک اور پیاس کے ساتھ گزارنا اور پھر اجتماعی افطار—یہ سب انسان کو خود پر قابو پانے اور اجتماعی زندگی گزارنے کا درس دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ رمضان میں ایک دوسرے کی مدد، قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت، نمازوں کی پابندی اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار—یہ سب اس تربیتی نظام کا حصہ ہے، تاکہ انسان رمضان کے بعد بھی اپنی زندگی کو اسی ڈگر پر قائم رکھ سکے۔
خطبۂ جمعہ میں انہوں نے زور دے کر کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ رمضان آ رہا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون اس تربیت سے فائدہ اٹھا کر رمضان کے بعد بھی اپنی زندگی سنوارتا ہے اور کون اس سے روگردانی کرتا ہے۔
آخر میں خطیب محمد اقبال نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ بوجھ کے ساتھ اس مبارک مہینے کو گزارنے، اس کی تربیت کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے اور اپنی رضا و رحمت کا مستحق بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

0 Comments