آگرہ: مسجد نہر والی، سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے آج خطبۂ جمعہ میں ماہِ شعبان کی اہمیت اور آنے والے رمضان المبارک کی تیاری پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ رجب اور رمضان کے درمیان آنے والا مہینہ شعبان بھی نہایت فضیلت والا ہے، مگر افسوس کہ لوگ اس سے غفلت برتتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ ﷺ اس مہینے میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے۔ خطیب محمد اقبال نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “یہ وہ مہینہ ہے جو رجب اور رمضان کے درمیان ہے، لوگ اس سے غفلت کرتے ہیں، حالانکہ اسی مہینے میں رب العالمین کے حضور اعمال پیش کیے جاتے ہیں، اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں۔”
(سنن نسائی، حدیث نمبر: 2359)
انہوں نے کہا کہ جب کائنات کے سب سے بہترین انسان، تمام انبیاء کے امام اور قیامت تک آنے والے انسانوں کے رہنما ﷺ کو اپنے اعمال کی اتنی فکر تھی تو ہمیں بھی اپنے اعمال کا سنجیدگی سے محاسبہ کرنا چاہیے۔ آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم رمضان سے پہلے ہی یہ حساب لگانے لگتے ہیں کہ کس مسجد میں چند دنوں میں تراویح کا “ختم” ہوگا، جبکہ اصل مقصد اصلاحِ نفس اور تقویٰ کا حصول ہے۔ خطیب نے نمازیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے بندو! آنے والے رمضان المبارک کی ابھی سے منصوبہ بندی کریں، اپنے معمولات درست کریں، تاکہ روزے صحیح طور پر رکھے جا سکیں، نمازیں وقت پر ادا ہوں، قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام ہو اور راتوں میں تراویح خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ درحقیقت رمضان المبارک ایک تربیتی مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ماہ کا مکمل کورس ہے، جسے ہمیں رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق پورا کرنا ہے۔ اگر ہم اس عظیم امتحان میں ناکام رہے تو کل رب العالمین کے سامنے کیا جواب دیں گے؟ خطبہ کے اختتام پر خطیب محمد اقبال نے امتِ مسلمہ کو غور و فکر، خود احتسابی اور سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کی تلقین کی، اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں شعبان میں رمضان کی بہترین تیاری کی توفیق عطا فرمائے۔

0 Comments