آگرہ: مسجد نہر والی سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے آج خطبۂ جمعہ میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے رمضان المبارک کی تیاری اور اس کی قدر و منزلت پر زور دیا۔ انہوں نے اپنے بیان کا آغاز صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1923 سے کیا، جس میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
"سحری کھایا کرو، اس لیے کہ سحری میں برکت ہے۔"
خطاب کے دوران انہوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا: "سحری میں اٹھانے والی آواز کہاں گئی؟" انہوں نے کہا کہ بچپن میں ہم سب رمضان کے دوران سحری کے وقت یہ آواز ضرور سنا کرتے تھے: "سحری کھانے والو اٹھ جاؤ، سحری کا وقت ہو گیا!" مگر آج وہ آوازیں سنائی نہیں دیتیں، حالانکہ رمضان المبارک ہر سال آتا ہے اور قیامت تک آتا رہے گا، لیکن ہم میں سے کون کب اس دنیا سے رخصت ہو جائے، یہ کسی کو معلوم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے رمضان کو اپنی زندگی کا آخری رمضان سمجھتے ہوئے اس کی قدر کرنی چاہیے اور پورے اہتمام کے ساتھ روزے، نماز، قرآن کریم کی تلاوت اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کا اہتمام کرنا چاہیے۔ انہوں نے صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1909 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو"، اس لیے ہمیں رمضان کی تیاری شوق اور جذبے کے ساتھ کرنی چاہیے۔
خطیب محمد اقبال نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان اکثر رات دو یا تین بجے تک جاگتے رہتے ہیں، پھر سحری کھا کر یا بغیر سحری کے سو جاتے ہیں اور اگلے دن ظہر کے وقت بیدار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اسے سنت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے صحیح بخاری کی حدیث نمبر 568 کا حوالہ دیا، جس میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بلا ضرورت بات چیت کو ناپسند فرماتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کیا ایسے افراد وقت پر نماز اور قرآن کریم کی تلاوت کر سکتے ہیں؟ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ابھی سے اپنے معمولات کی درست ترتیب بنائیں تاکہ وقت پر نماز ادا کر سکیں اور قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کریں۔
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی قدر کرنے اور اس سے بھرپور استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

0 Comments