آگرہ: مسجد نہر والی سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے خطبۂ جمعہ میں ماہِ رمضان کی اصل روح پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے رمضان المبارک کو عبادت اور تقویٰ کے بجائے لذتوں اور چٹخاروں کا مہینہ بنا دیا ہے۔
انہوں نے سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 183 کی تلاوت کی:
"یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِینَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ"
اور وضاحت کی کہ روزوں کا مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے، یعنی انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اس کے مقرر کردہ حدود کا پابند بن جائے۔
خطیب نے حدیثِ نبوی ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1894 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔"
انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معمولی فضیلت نہیں، تمام نیک اعمال کا اجر بیان کیا گیا ہے مگر روزے کا معاملہ منفرد رکھا گیا ہے کیونکہ یہ عبادت خالصتاً بندے اور اللہ کے درمیان ہے۔
اسی طرح حدیث نمبر 1904 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑا شرف ہے جو روزہ دار کو عطا کیا گیا ہے۔
محمد اقبال نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم رمضان میں صبح سے شام تک افطار کی تیاریوں اور نت نئے پکوانوں کی منصوبہ بندی میں مصروف رہتے ہیں۔ نفس کی تربیت کے بجائے اس کی پرورش کی جا رہی ہے، جس کے باعث روزے کا اصل مقصد پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم علاقوں میں رمضان کا پیغام عبادت اور سادگی کے بجائے “مسلم فوڈ فیسٹیول” کا منظر پیش کرتا ہے۔
انہوں نے قرآن کریم کے الفاظ “لعلکم تتقون” کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ہمیں غور کرنا ہوگا کہ کیا ہماری راتیں اور دن واقعی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حدود میں گزر رہے ہیں؟ رمضان المبارک دراصل نفس کے بنیادی تقاضوں پر قابو پانے کی تربیت کا مہینہ ہے تاکہ انسان آخرت کی جواب دہی کے لیے تیار ہو سکے۔
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مقرر کردہ حدود کے مطابق زندگی گزارنے اور رمضان کی حقیقی روح کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

0 Comments