آگرہ: مسجد نہر والی، سکندرا کے خطیب محمد اقبال صاحب نے خطبۂ جمعہ میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے زکوٰۃ کی ادائیگی کے درست اور مؤثر استعمال پر زور دیا۔
انہوں نے سورۂ مائدہ کی آیت نمبر 55 تلاوت کی:
“وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ”
“جو لوگ ایمان لائے، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔”
خطیبِ مسجد نے فرمایا کہ زکوٰۃ دینِ اسلام کا ایک بہترین اور منظم نظام ہے، جس سے معاشرے میں پاکیزگی، عدل اور توازن پیدا ہوتا ہے اور گداگری کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس بہترین نظام ہونے کے باوجود ہم ہی سب سے زیادہ محتاج نظر آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاں باقاعدہ بیت المال کا نظام قائم ہے وہاں کے حالات نسبتاً بہتر ہیں، کیونکہ ضرورت مندوں کی باعزت اور منظم انداز میں مدد کی جاتی ہے۔ تاہم ہر جگہ یہ نظام موجود نہیں، اس لیے ہمیں خود عملی قدم اٹھانا ہوگا۔
انفرادی تقسیم کے بجائے منصوبہ بندی
محمد اقبال صاحب نے اہلِ خیر سے اپیل کی کہ جو حضرات بڑی مقدار میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں وہ اسے انفرادی طور پر چھوٹی چھوٹی رقموں میں تقسیم کرنے کے بجائے اپنے اطراف میں کسی ایک مستحق شخص کو “منتخب” کریں، اس کی مکمل معلومات حاصل کریں اور ایک باقاعدہ ضابطے کے تحت اسے اتنی رقم فراہم کریں کہ وہ کوئی چھوٹا کاروبار یا ہنر شروع کرسکے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ شخص آئندہ سوال کرنے والا نہ رہے بلکہ کچھ عرصے بعد خود زکوٰۃ دینے والوں میں شامل ہو جائے۔
تبدیلی ممکن ہے
انہوں نے کہا: “یہ کام اگر آسان نہیں تو ناممکن بھی نہیں ہے۔ ہمارا ٹارگٹ یہ ہونا چاہیے کہ اس مرتبہ زکوٰۃ لینے والا ایک شخص معاشرے سے کم کریں۔ آپ ہمت کریں، اللہ تعالیٰ کی مدد آپ کے ساتھ ہوگی، ان شاء اللہ۔”
آخر میں انہوں نے حاضرینِ مسجد سے گزارش کی کہ وہ خود بھی پہل کریں اور دوسروں کو بھی اس عملی پروگرام کا حصہ بنائیں۔ ان کے مطابق اگر سنجیدگی سے اس پر عمل کیا جائے تو معاشرے میں بڑی مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں زکوٰۃ کے صحیح استعمال اور مستحقین کی باعزت مدد کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

0 Comments