کُلُوا وَاشْرَبُوا دعوتِ رمضان ۲۰۲۶ء.
تحریر: ڈاکٹر محمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی
شفاء خانہ، بنگلور۔
مہمان نوازی اسلام میں ایک نہایت بلند اور قابلِ قدر صفت ہے، مگر افسوس کہ آج کے مادی دور میں یہ خوبی لوگوں میں کم ہوتی جا رہی ہے۔ بہت کم خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے مہمان نوازی کا شرف حاصل ہوتا ہے، جبکہ اکثر لوگ اس سعادت سے محروم رہ جاتے ہیں۔
قرآنِ کریم میں ایک انصاری صحابی کی ضیافت کا ذکر ملتا ہے۔ سبحان اللہ! وہ میزبان کتنے عظیم ہوں گے جن کی تعریف خود اللہ تعالیٰ کرے اور جن کا ذکر قرآن میں محفوظ ہو جائے۔ کھانا کھلانے اور مہمان نوازی کے بڑے فضائل بیان ہوئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
"خَیْرُکُمْ مَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ وَرَدَّ السَّلَامَ"
تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو کھانا کھلائے اور سلام کا جواب دے۔
اور جو شخص ضیافت جیسی نیکی سے دور ہو، اس کے بارے میں ارشاد ہے:
"لَا خَیْرَ فِیْمَنْ لَا یُضِیفُ"
اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو مہمان نوازی نہ کرے۔
اسی وجہ سے بعض علماء نے میزبان پر مہمان کی ضیافت کو واجب قرار دیا ہے۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی دستور کے مطابق عزت و اکرام کرے۔
اسی لئے ہمیں یہ دعا بھی سکھائی گئی ہے:
اَللّٰهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِی وَاسْقِ مَنْ سَقَانِی
اے اللہ! جس نے مجھے کھلایا اسے بھی کھلا، اور جس نے مجھے پلایا اسے بھی پلا۔
ایک دوسرے کو دعوت دینا اور ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا مسنون عمل ہے، جس سے باہمی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو شخص ہمارے گھر تشریف لائے، اس کے سامنے بغیر تکلف جو کچھ میسر ہو پیش کر دینا چاہیے، خواہ ایک گلاس پانی ہی کیوں نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، اور ان نعمتوں پر شکر ادا کرنا ضروری ہے۔ غذا بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتوں میں سے ہے، اور ان غذاؤں میں گوشت ایک نہایت عمدہ اور صحت بخش غذا شمار ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف لذیذ ہے بلکہ جسم کو توانائی اور قوت بھی فراہم کرتا ہے اور صالح خون پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت بے حد مرغوب تھا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"گوشت کا سالن دنیا اور آخرت میں تمام سالنوں کا سردار ہے۔"
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
"لوگو! گوشت کھایا کرو، کیونکہ گوشت کھانا حلق کو بہتر بناتا ہے۔"
اسی پس منظر میں ہر سال ماہِ رمضان المبارک میں دوست و احباب بعدِ تراویح ایک دسترخوان پر جمع ہوتے ہیں، تاکہ رمضان کی مبارک ساعتوں میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ باہمی ملاقات و گفتگو کا سلسلہ بھی جاری رہے۔ اس موقع پر پرانی یادیں تازہ ہوتی ہیں اور نئے عزائم بھی جنم لیتے ہیں۔ ایسے لمحات میں یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ طالب علمی کے سنہری دن کب گزر گئے۔
آج کے دسترخوان پر بھی مختلف اقسام کے کھانے موجود تھے، مگر یہاں صرف چند خاص ڈشوں کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے۔
آج میں نے سب کی پسندیدہ اور اس ہوٹل کی خاص ڈش بھنا ہوا چاپ آرڈر کیا۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس پر صرف نمک اور ہلکی مرچ کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔ اس میں اضافی تیل یا گھی نہیں ڈالا جاتا بلکہ پسلیوں کی قدرتی چربی میں ہی اسے بھونا جاتا ہے۔ اس کی لذت ایسی ہے کہ اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، بلکہ صرف چکھ کر ہی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
ہردل عزیز شخصیت مولانا نثار احمد صاحب قاسمی (ڈائریکٹر، اقراء انٹرنیشنل قرآنی ریسرچ اکیڈمی) کی پسندیدہ شعلہ کباب بھی دسترخوان کی زینت تھی۔ اسی طرح محترم جناب نعمت اللہ حمیدی صاحب (ریزیڈنٹ ایڈیٹر، روزنامہ راشٹریہ سہارا، بنگلور) کی پسند پہاڑی گوشت بھی نہایت لذیذ تھا، جو ہلکے مصالحوں کے ساتھ آگ پر بھونا جاتا ہے۔
یہ سب آج کے خصوصی اسٹارٹر تھے۔ سلاد کی بھی کئی اقسام موجود تھیں، مگر اکثر احباب نے حسبِ معمول گھاس پھوس سے خاصی احتیاط برتی۔
اسی دوران مولانا عبداللہ سلمان ریاض صاحب قاسمی سے بھی طویل عرصے بعد تفصیلی ملاقات کا موقع ملا۔ آپ کے والدِ گرامی، نمونۂ سلف حضرت مولانا ریاض الحسن قاسمی رحمہ اللہ (خلیفہ و مجازصحبت پیرِ طریقت حضرت مولانا قمر الزماں الٰہ آبادی رحمہ اللہ) کی رحلت کے بعد ملاقاتیں کم ہو گئی تھیں۔ آج کی ملاقات اگرچہ مختصر تھی مگر مفصل گفتگو کا موقع ضرور ملا۔ اس وقت آپ مدرسہ عربیہ امینہ، پرتاب گڑھ کے ناظمِ اعلیٰ ہیں اور ساتھ ہی محکمۂ شرعیہ دارالقضاء کی ذمہ داریاں اور دیگر ادبی مصروفیات بھی نبھا رہے ہیں۔
دسترخوان پر ایک معزز مہمان مفتی محمد ساجد صاحب قاسمی کھجناؤری (استاد حدیث، مدرسہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ اور ایڈیٹر صداۓ حق) بھی موجود تھے۔ چونکہ اکثر احباب شوگر کے مریض تھے، اس لئے کھانے کا آغاز روٹی سے کیا گیا۔
ساؤتھ انڈیا میں روٹی کی اقسام دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم دیکھنے کو ملتی ہیں، جبکہ دہلی، یوپی اور ممبئی میں اس کی بڑی ورائٹی ہوتی ہے۔ اسی لئے ہم دعوتوں میں تجربات سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ آج دسترخوان پر کیرالا پراٹھا خصوصی طور پر پیش کیا گیا۔
تمام کھانوں میں دنبہ کے گوشت کو ترجیح دی گئی، کیونکہ بکرے کا گوشت غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس میں آئرن، پروٹین اور وٹامن B12 وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، جو خون کی کمی دور کرنے، جسمانی کمزوری ختم کرنے اور پٹھوں کی مضبوطی کے لیے مفید ہیں۔ یہ گائے کے گوشت کے مقابلے میں نسبتاً آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے اور اس میں موجود زنک اور سیلینیم قوتِ مدافعت کو بھی بڑھاتے ہیں۔
تاہم بکرے کے گوشت کو ہمیشہ کم مصالحے اور کم تیل میں پکانا بہتر ہے تاکہ اس کے مضر اثرات سے بچا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق ہفتے میں تقریباً 500 گرام سے زیادہ گوشت کا استعمال مناسب نہیں۔
ہر جگہ کی طرح یہاں بھی جناب شہزادہ خان صاحب خدمت میں پیش پیش رہے۔ موصوف علماء کی خدمت کو سعادت سمجھتے ہیں اور اس موقع کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
کھانے سے فراغت کے بعد ایرانی چائے پیش کی گئی۔ اس کے بعد معانقہ و مصافحہ کے ساتھ مجلس اپنے اختتام کو پہنچی۔

0 Comments