Latest News

جانور ذبح کرنا علامتی قربانی ہے، اصل ہمارے نفس کی قربانی ہے: خطیب محمد اقبال۔

آگرہ: مسجد نہر والی سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے آج خطبۂ جمعہ میں نمازیوں کو خطاب کرتے ہوئے اسلام میں قربانی کے اصل مقصد کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ جانور کی قربانی ایک علامتی قربانی ہے، اصل قربانی ہمارے "نفس" کی قربانی ہے۔ حج کا عظیم الشان اجتماع اور اس کے مختلف ارکان اس کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے ہر موڑ پر انسان کو اپنے نفس کی قربانی دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جمرات کو کنکریاں مارنا بھی ایک علامتی عمل ہے، جس کا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی عملی زندگی میں شیطان کو اسی طرح اپنے سے دور کرے اور برائیوں سے بچنے کی کوشش کرے۔
محمد اقبال نے کہا کہ جس طرح مسلمان اللہ کے حکم پر جانور کو ذبح کرتے ہیں، اسی طرح اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے قربانی کے اصل پیغام کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور صرف جانور کی قربانی کو ہی مقصد بنا لیا ہے۔ اسی وجہ سے ہماری توجہ مختلف قسم کے کھانوں اور مہمان نوازی تک محدود ہوکر رہ گئی ہے، جبکہ قربانی کا حقیقی مقصد اپنی خواہشات اور نفس پر قابو پانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو "عظیم قربانی" قرار دیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ کے حکم کی تعمیل و اطاعت کی ایسی مثال قائم کی کہ اللہ تعالیٰ نے اس سنت کو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے جاری رکھا۔
خطیب محمد اقبال نے مزید کہا کہ اگر حج اور عید الاضحیٰ کی قربانی کے بعد ہماری زندگیوں میں مثبت تبدیلی آجائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہمارا حج اور قربانی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہوگئی۔ یہی عبادات کے قبول ہونے کا اصل پیمانہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں اپنی زندگیوں کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے، تبھی عبادات کے حقیقی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر