Latest News

جس کی کوئی گارنٹی نہیں وہ زندگی ہے، جس کی سو فیصد گارنٹی ہے وہ موت: خطیب محمد اقبال۔، مسجد نہر والی کے خطبہ جمعہ میں آخرت کی تیاری، نماز، توبہ اور صدقہ جاریہ کی اہمیت پر زور۔

آگرہ: مسجد نہر والی کے خطیب محمد اقبال نے خطبہ جمعہ کے دوران زندگی اور موت کی حقیقت پر گفتگو کرتے ہوئے مسلمانوں کو آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس چیز کی کوئی گارنٹی نہیں، اس کا نام زندگی ہے، جبکہ جس چیز کی سو فیصد گارنٹی ہے، اس کا نام موت ہے۔
خطیب محمد اقبال نے نمازیوں سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ایک چیز کی سو فیصد گارنٹی ہو اور دوسری چیز کی کوئی گارنٹی نہ ہو تو عقل مند انسان کس کی تیاری کرے گا؟ ظاہر ہے کہ وہ اسی چیز کی تیاری کرے گا جس کی سو فیصد گارنٹی ہے، لیکن افسوس کہ ہم نے زندگی میں اس ترتیب کو الٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے ہم برسوں کے منصوبے بناتے ہیں، بچوں کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں، کاروبار، مکان، تعلیم اور دنیاوی عہدوں کے لیے مسلسل محنت کرتے ہیں، لیکن موت اور آخرت کی تیاری کو اکثر کل پر چھوڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
"وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ"
یعنی "دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔"
(آل عمران: 185)
خطیب نے کہا کہ اس حقیقت کے باوجود انسان دنیا کی زندگی کے دھوکے میں مبتلا ہے۔ آج ہم زندہ ہیں، لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ کل کہاں اور کس حال میں ہوں گے۔ قرآن کریم میں واضح کیا گیا ہے:
"وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ"
یعنی "کسی شخص کو معلوم نہیں کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔"
(لقمان: 34)
انہوں نے کہا کہ ہم اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، لیکن ہمیں خود سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ ہم نے اپنی آخرت کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ کیا ہماری نمازیں مکمل ہیں؟ کیا ہم نے سچی توبہ کی ہے؟ کیا ہم نے اپنی زندگی میں کوئی ایسا کام کیا ہے جو ہمارے مرنے کے بعد بھی ہمارے لیے اجر کا ذریعہ بنے؟
خطیب محمد اقبال نے نمازیوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ نماز کو یہ سوچ کر مؤخر نہ کریں کہ "کل سے پڑھ لوں گا"، کیونکہ کل کی کوئی ضمانت نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ آج ہی اپنی اصلاح شروع کرے اور ایسے نیک اعمال کرے جن کا ثواب دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی جاری رہے۔
انہوں نے قرآن کریم کی ایک اور آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
"أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ"
یعنی "تم جہاں کہیں بھی ہو، موت تمہیں آ پکڑے گی۔"
(النساء: 78)
خطیب نے کہا کہ موت سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ زندگی ہمیں ہر کام کو کل پر ٹالنا سکھاتی ہے، لیکن موت ایک دن یہ حقیقت واضح کر دے گی کہ جس "کل" کا ہم انتظار کرتے رہے، وہ شاید کبھی آیا ہی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آخرت کی تیاری آج اور ابھی کرنی چاہیے، کیونکہ اس وقت ہم زمین کے اوپر ہیں، لیکن ایک دن ہمیں زمین کے نیچے جانے پر مجبور ہونا ہے۔اس لیے انسان کو اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ موت آنے سے پہلے موت اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آخر میں خطیب محمد اقبال نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ مومن وہ ہے جو آخرت کے لئے جیتا ہے الله ہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں مسافر کی طرح زندگی گزارنے، نماز کی پابندی کرنے، سچی توبہ کرنے، صدقہ جاریہ کے اعمال کرنے اور آخرت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر