Latest News

کیا اب مسلمان ہندو کہلائے جائیں گے؟: یاسر ندیم الواجدی۔

کیا اب مسلمان ہندو کہلائے جائیں گے؟: یاسر ندیم الواجدی۔
28 جنوری 2020
چند ماہ پہلے جب مولانا سید ارشد مدنی صاحب کی ملاقات آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت سے ہوئی، تو ہم نے ان کے اس اقدام کو سراہا تھا اور اس ملاقات کو دو ذمے داروں کے درمیان مکالمہ سمجھ کر اس کی تائید بھی کی تھی۔ مولانا میرے استاذ ہیں اور اس اعتبار سے میرے محسن ہیں، لیکن یہ تعلیم بھی ہمیں اپنے اساتذہ سے ہی ملی ہے کہ دائرے میں رہتے ہوے بڑوں سے بھی اختلاف کا اظہار کردیا جائے۔ یہ تمہید اس لیے لکھی ہے کیوں کہ نچلی سطح کے کچھ لوگ اختلاف کو مخالفت سمجھ کر مسئلہ کی تنقیح کا حق چھین لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ تحریر جب مولانا ارشد مدنی صاحب تک پہنچے گی تو وہ اس حساس مسئلہ پر ضرور غور کریں گے۔ 
چھبیس جنوری کی مناسبت سے بینگلور میں ہونے والے جمعیت علمائے ہند کے اجلاس میں مولانا نے موہن بھاگوت سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ: "بھاگوت جی نے واضح کیا کہ ہر ہندوستانی ہندو ہے، وہ اپنے اپنے مذہب کا پابند ہے لیکن ہندو ہے، مسلمان نماز پڑھتا ہے اذان دیتا ہے لیکن ہندو ہے، کرسچن چرچ میں جاتا ہے وہ بھی ہمارے نزدیک ہندو ہے، میں نے کہا کہ اگر لفظ ہندو کا یہ ترجمہ ہے تو ہمیں اس سے اختلاف نہیں ہو سکتا ہے"۔ مولانا نے اس کے بعد  حافظ شیرازی کے ایک شعر "به خال هندویش بخشم سمرقند و بخارا را"  سے اس پر استدلال بھی کیا، نیز یہ بھی بتایا کہ ترکی زبان کے شاعر عاکف نے بھی یائے نسبتی کی جگہ واؤ نسبتی کا استعمال کیا ہے، لہذا ہندی اور ہندو دونوں کے معنی ایک ہیں۔ یہ ساری تفصیلات یوٹیوب پر موجود مولانا کی تقریر میں سنی جاسکتی ہیں۔ 
اس موضوع پر گفتگو کرنے کے لیے گولوالکر اور ساورکر وغیرہ کے حوالے دینا اس لیے بے معنی ہے کہ مولانا خود ہی کہہ چکے ہیں کہ "بھاگوت جی نے واضح کیا کہ آر ایس ایس ان کے نظریات کی پابند نہیں ہے، ان کے اس جواب پر میں منہ دیکھتا رہ گیا"۔ لہذا آر ایس ایس کے ان نظریہ سازوں کے نظریات چونکہ اب حیرت انگیز طور پر آر ایس ایس کے نزدیک معتبر نہیں ہیں، اس لیے ان کا حوالہ دینا بھی غیر معتبر ہوگا۔ 

دی ڈسکوری آف انڈیا (صفحہ 75) میں پنڈت نہرو لکھتے ہیں کہ: " لفظ ہندو کا استعمال بطور مذہب، بعد کے ادوار میں رائج ہوا ہے، ہندوازم لفظ ہندو سے ہی بنا ہے"۔  ڈاکٹر ایس رادھا کرشنن نے 1926 میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوے ہندوازم کی تعریف اس طرح کی کہ: "ہندوازم ایک طرز زندگی ہے، یہ فکر کی مکمل آزادی کا قائل ہے، اس کے باوجود یہ رسموں کا سخت پابند ہے، اس کے مطابق عقیدہ تجربے کے تابع ہے اور تجربہ ذہنی شعور کے تابع"۔ (ایس رادھا کرشنن: دی ہندو ویو آف لائف، ص 3)۔ 
حوالے بہت ہیں، مگر ان حوالوں کی کثرت سے ہم اس تحریر کو بوجھل نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ جب یہ بات مان لی گئی کہ آر ایس ایس ایک ثقافتی تحریک ہے، تو مذہبیات میں اس کے ذمے داران کا قول معتبر نہیں ہوگا، جب کہ ان ذمے داران کا عمل بھی اس کی تائید نہ کرتا ہو۔ مذکورہ بالا دونوں حوالوں سے یہ ثابت ہوا کہ لفظ ہندو ماضی میں خواہ کسی معنی میں استعمال ہوتا ہو مگر اب یہ ایک مذہب کے ماننے والے کا نام ہے اور مذہب بھی ایسا کہ جس میں انسان خود یہ طے کرے گا کہ اس کا خدا کیسا ہونا چاہیے۔ 
قانونی اعتبار سے بھی اگر دیکھیں تو سپریم کورٹ نے 1995 کے اپنے فیصلے برہمچاری سدھیشور بنام مغربی بنگال میں ہندوازم کی سات خصوصیات ذکر کی ہیں اور یہ خصوصیات جن میں پائی جائیں وہ شخص ہندو ہے:
1- ویدوں کو حجت تسلیم کرنا۔ 
2- شعورِ برداشت ہونا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ سچائی کسی ایک فکر میں منحصر نہیں ہے۔ 
3- کائنات کے ابدی ہونے کو ماننا۔ 
4: ہندو فلسفے کے تمام نظاموں اور خصوصا عقیدہ تناسخ کا قائل ہونا۔ 
5- یہ ماننا کہ نجات کے راستے متعدد ہیں۔ 
6- یہ ماننا کہ خداوں کی پرستش ہونی چاہیے، اگرچہ یہ بھی درست ہے کہ بہت سے ہندو بت پرستی  میں یقین نہیں رکھتے ہیں۔ 
7- دیگر مذاہب کی طرح ہندو ازم کسی خاص طریقہ کار کا پابند نہیں ہے۔ 
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے مطابق یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک مسلمان کبھی بھی ہندو نہیں ہوسکتا۔ موہن بھاگوت خواہ کتنی ہی بڑی تنظیم کے ذمہ دار ہوں لیکن ان کی بات سپریم کورٹ کے فیصلے سے اوپر نہیں ہوسکتی ہے۔ 
بھارت کی پارلیمان نے 1955 میں ہندو میرج ایکٹ پاس کیا تھا جس کا اطلاق غیر ہندوؤں پر نہیں ہوتا، جن میں مسلمان اور عیسائی دونوں داخل ہیں۔  اگر بھاگوت کی بات کو تسلیم کرلیا جائے تو مسلمانوں کو پرسنل لاء کی کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی، کیونکہ ہندو ہونے کی وجہ سے ہندو میرج ایکٹ کے مطابق وہ شادیاں کر سکتے ہیں۔ 
ریزرویشن ایکٹ کے مطابق غیر مسلم دلتوں کو بھارت میں خصوصی ریزرویشن حاصل ہے، لیکن وہی دلت اگر اسلام قبول کر لے تو ریزرویشن کی مراعات سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس قانون میں بھی مسلمانوں کو ہندو تسلیم نہیں کیا ہے۔ 70 سالوں سے زائد عرصے سے ملک میں موجود ان قوانین کے ہوتے ہوئے، کیا کسی شخص کی بند کمرے میں کی ہوئی گفتگو کو جس کا تعلق مذہب، عقیدہ اور تہذیب سے ہو قبول کیا جا سکتا ہے؟
اگر لفظ ہندو کو اصول فقہ کی اصطلاح کے اعتبار سے مشترک بھی مان لیا جائے، کہ چند لوگوں کے نزدیک اس لفظ کے معنی ہندوستانی کے ہیں، جب کہ باقی لوگوں کے نزدیک اس کے معنی ایک خاص مذہب کے پیروکار کے، تب بھی عرف نے اس کے دوسرے معنی کو ترجیح دی ہے اور مشترک لفظ کے کسی ایک معنی کو اگر ترجیح دی جائے تو وہ موؤل بن جاتا ہے جس پر عمل ضروری ہوتا ہے۔ فقہی ضابطہ بھی ہے کہ: "العرف حاكم" اور حاکمیت عرف کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی لفظ مطلق ہے تو عرف اس کو مقید یا خاص کردیتا ہے۔ ( موسوعہ قواعد فقیہہ ص 387) 
لہذا عرف نے یہ طے کر دیا کہ ہندو ایک خاص مذہب کے ماننے والے کا نام ہے نہ کہ اس علاقے میں رہنے والے کا۔ 
سی اے اے قانون جس کے تعلق سے مولانا ارشد مدنی صاحب نے اپنی تقریر میں چند باتیں ذکر بھی کی ہیں خود اسی مذہبی تفریق پر مبنی ہے۔ بھاگوت کے مطابق اگر ہندو انڈس ندی کے مشرق میں رہنے والی اقوام ہیں، تو پاکستان کی آدھی آبادی بھی ہندو ہی ہوئی، پھر کیا وجہ ہے کہ سی اے اے کے مطابق ان ممالک کے صرف غیر مسلموں کو ہی شہریت تفویض کیے جانے پر حکومت مصر ہے اور اس قانون کے بنانے پر مودی اور امت شاہ کو موہن بھاگوت کا مکمل آشرواد حاصل ہے۔ 
حقیقت یہی ہے کہ لفظ ہندو کا استعمال مسلمانوں کے لیے شرعی، قانونی اور تاریخی کسی بھی اعتبار سے درست نہیں ہے، بلکہ موہن بھاگوت کی بیان کردہ تعریف کے اعتبار سے بھی درست نہیں ہے، کیوں کہ ہندوتوا آر ایس ایس کے نزدیک ایک مخصوص ثقافت کا نام ہے، اگر ہمیں اس بات سے اتفاق ہے کہ موہن بھاگوت مسلمانوں کو ہندو بولیں تو کیا ہمیں اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ مسلمان اس خاص ثقافت کو اختیار کر لیں اور اپنی شناخت کو بھول جائیں۔  لہذا میں اپنی تحریر کے ذریعے سب سے پہلے تو خود مولانا ارشد مدنی سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنی تقریر کے اس حصے سے رجوع فرمائیں، نیز اس تحریر پر چیں بہ جبیں ہونے والے ہر فرد سے یہ گزارش ہے کہ مولانا کا بیان عوامی ہے اور اس کا تعلق عقیدہ سے ہے۔ اس لیے اس بیان پر گفتگو بھی پبلک پلیٹ فارم پر ہی ہونی چاہیے تاکہ دیگر لوگوں تک مخالف نقطہ نظر بھی پہنچ سکے۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر