دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں کارگزار اور نائب مہتمم کے عہدوں پر تقرری و بجٹ کے حوالے سے  ہوا تبادلہ خیال۔

دیوبند: مشہور اسلامی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند کی سپریم پاور مجلس شوریٰ کا اجلاس ادارے کے گیسٹ ہاؤس میں شروع ہوا۔ تین روزہ اجلاس کے پہلے دن اتوار کو جہاں سال22-2021 کے بجٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا وہیں کارگزار و نائب مہتمم کے عہدوں پر تقرری کے لیئے بھی غور و خوض کیا گیا۔
توقع ہے کہ اس بار 31 کروڑ روپے کا بجٹ پہلے کی طرح پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی میٹنگ میں کارگزار مہتمم مولانا قاری عثمان منصورپوری اور نائب مہتمم مولانا عبدالخالق سنبھلی کی وفات کی وجہ سے خالی عہدوں کو پُر کرنے کے بارے میں غور و خوض کے بعد نئی تقرری عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ کورونا کی وجہ سے جہاں پچھلے سال کے بجٹ میں تخفیف کی گئی تھی وہیں اس مرتبہ بھی قابلِ ذکر اضافے کی توقع نہیں ہے۔  اس بار بھی اگر بجٹ میں اضافہ نہ ہوا تو ملازمین کی تنخواہ مشکل سے بڑھ سکتی ہیں۔ اجلاس میں دارالعلوم کے مہتمم مولانا ابوالقاسم نعمانی ، صدرمدارس مولانا ارشد مدنی ، مولانا غلام وستانوی ، مولانا نظام الدین خاموش ، مولانا عبدالعلیم فاروقی ، مولانا عاقل سہارنپوری ، مولانا عاقل گھڑھی دولت ، مفتی شفیق خان ، مولانا مفتی احمد خان پوری ماسٹر سید انظر حسین نے شرکت کی۔

سمیر چودھری