پارلیمنٹ کاسرمائی اجلاس شروع، زرعی قوانین کی واپسی سمیت 36 بلوں کی منظوری متوقع، وزیرِ اعظم مودی نے کہا سرکار سبھی سوالوں کا جواب دینے کو تیار۔
نئی دہلی: پارلیمنٹ کا 25 روزہ سرمائی اجلاس آج سے شروع ہو رہا ہے۔ اس دوران زرعی قوانین کی منسوخی سمیت 36 بل منظور کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اپوزیشن پیگاسس تنازعہ اور قیمتوں میں اضافے سمیت دیگر معاملات پر حکومت کو گھیر سکتی ہے۔ پارلیمنٹ پہلی نشست میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کے سرکار اپوزیشن کے تمام سوالوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
سرمائی اجلاس کے 19 اجلاسوں میں مرکزی حکومت 36 قانون سازی بل اور ایک فنانس بل پیش کر سکتی ہے۔
ایگریکلچر ایکٹ کو منسوخ کرنے کا بل پہلے دن لوک سبھا میں پیش اور پاس ہونے کے لیے درج ہے۔ اسے مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر پیش کریں گے۔ بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس نے اپنے اراکین کے لیے وہپ جاری کیا ہے۔
اس سیشن میں کئی دیگر اہم بلوں کو بھی منظور کیا جائے گا۔ ان میں کرپٹو کرنسی اور آفیشل ڈیجیٹل کرنسی بل بھی شامل ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کل آل پارٹی میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے روایت کی خلاف ورزی کی تردید کرتے ہوئے کہا، "وزیر اعظم کی آل پارٹی میٹنگ میں شرکت کی کوئی روایت نہیں تھی۔ اس کی شروعات مودی جی نے کی تھی۔"
راجیہ سبھا میں کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ وہ وزیر اعظم کی شرکت کی توقع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم زرعی قوانین کے بارے میں مزید پوچھنا چاہتے تھے کیونکہ کچھ خدشات ہیں کہ یہ تینوں قوانین دوبارہ کسی اور شکل میں آ سکتے ہیں۔
گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں 31 جماعتوں نے شرکت کی۔ تاہم عام آدمی پارٹی نے میٹنگ کے بیچ میں ہی واک آؤٹ کر دیا۔ پارٹی کے سنجے سنگھ نے کہا کہ انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔