مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ،ایک بے لوث خادم ، ایک بے خوف قائد: مولانا نسیم اختر شاہ قیصر (استاذ دارالعلوم وقف دیوبند)
مسافر ہی نظر آیا،نظر آیا جو دنیا میں 
جسے دیکھا اسے آلودۂ گردِ سفر دیکھا 
خاندانی روایتوں کا حامل ایک شخص ، جرأت وحوصلہ مندی کی ایک مثال ، حق گوئی اور بے باکی کا ایک نمونہ، حکومت ِ وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والا ایک فرد، ایک ایسا شخص جس نے دین وسیاست کے میدان میں ایسے نقوش قائم کئے جو زمانوں تک مٹیں گے نہیں، ایمانی جذبوں، ایمانی حرارت، ایمانی جوش وولولہ کے ایسے واقعات ان کی ذات سے منسوب ہیں جنہیں میں ربّانی مہربانیوں سے تعبیر کرتا ہوں ۔ انہوں نے پوری زندگی بلند مقاصد کے تحت گزاری اور ان مقاصد کی بلند ہمتی، اولوالعزمی کے ساتھ تکمیل فرمائی۔ مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی رحمہ اللہ ہمارے حلقے کے ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں لکھی گئیں سطورِ بالا ایسی حقیقت کی جانب رہنمائی کرتی ہیں جو صدیوں سے مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ کے خاندان کا امتیاز ہیں ، اس خاندان نے جہدو عمل کے ہر محاذ پر اور ایثارو وفا کے ہر موڑپر اپنی موجودگی اور قیادت کے چراغ اس شان کے ساتھ روشن کئے جو سالوں کے گزرنے اور بے شمار دنوں اور راتوںکے بیت جانے کے بعد بھی رہنمائے کارواں بنے ہوئے ہیں۔ 
مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ کے قالب میں وہی بے چین روح زندگی کی علامت اور حسن تھی جو تاریخ بنانے، تاریخ کو صیقل کرنے اور تاریخ کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ شہرۂ آفاق صحافی وادیب مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصرؒ ، حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ کے جدامجد رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ اور ان کے خاندان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: 
’’متحدہ پنجاب کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کا تعلق لدھیانہ کے ایک ایسے خاندان سے تھا جو نسلوں اور پشتوں سے اپنے علم وفضل اور دین ودیانت، خدمت ِ خلق، خدمت ِ دین، مجاہدانہ سرفروشی اور عزیمت وبلند ہمتی میں ممتاز اور اپنی ان صفات کی وجہ سے مرجع انام تھا، ان کے آبائو اجداد میں حضرت مولانا عبدالقادر صاحبؒ ، حضرت مولانا محمد صاحبؒ مشہور بزرگ گزرے ہیں ۔ یہ حضرات ہندوستان میں انگریزی سامراج کے ابتدائی مخالفوں میں سے تھے اور انہیں کی یہ خصوصیت تھی کہ مرزا قادیانی کے دعاوی باطلہ کا صحیح دینی روشنی میں ان بزرگوں نے تجزیہ فرمایا ۔ اس فتنۂ عظیم کا مقابلہ اور اسلام کے تقاضوں سے اس پر کفر کا فتویٰ نافذ فرمایا۔ 
                     (یادگارِ زمانہ ہیں یہ لوگ ص ۱۳۳) 

یہ مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ کے جدامجد اور خاندان کے چند بزرگوں کا سرسری تذکرہ ہے۔ مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ اپنے بزرگوں کے اسی سانچے اور مزاج میں ڈھلے ہوئے تھے ، انہوں نے انہیں بنیادوں پر اپنی زندگی کی عمارت کھڑی کی اور اسے خوبصورت، دیدہ زیب اور مستحکم بنانے میں اپنی ذات کو فنا کردیا۔ انہوں نے قادیانیت کا کامیاب تعاقب کیا ، سیاسی رہنمائی کا فرض نبھایا اور ملی مسائل پر اپنی بے لاگ اور کھری رائے پیش کرنے میں کبھی کسی جھجک کا مظاہرہ نہیں کیا۔ وہ حق پسند اور صاف گو تھے ، حق بیانی اور حق گوئی سے ان کا خمیر تیار ہوا تھا ، اس لئے جب بھی ملت ِاسلامیہ ہندیہ پر سخت وقت آتا یا مایوسی اور تباہی کے مہیب بادل چھاتے مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ خاموش نہ رہتے۔ بابری مسجد کا مسئلہ ہو یا تین طلاق سے حکومت کی غیرمعمولی دلچسپی اورمداخلت کا موقع ہو یا اس طرح کے دیگر مسائل وامور ہوں مولانا نے آگے بڑھ کر صحیح صورتِ حال سامنے رکھی اور حقیقت کی وضاحت میں کسی پس وپیش سے کام نہ لیا۔ 
مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ ایک بے خوف قائد اور ایک دیدہ ور رہنما تھے ، سیاسی سمجھ بوجھ خوب تھی، بصارت اور بصیرت کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کرتے۔ مولانامرحوم کے خاندان سے میرے اور میرے بڑوں کے قدیم ترین اور مخلصانہ تعلقات ہیں ۔ رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ ، حضرت امام العصر علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے تلمیذِ رشید اور فدائی تھے ۔ حضرت شاہ صاحب ؒ کو حضرت رئیس الاحرارؒ اور ان کے خاندان سے دلی تعلق تھا، تعلق کی یہ گرمی ہمیشہ رہی، میرے والد مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصرؒ اور عمِ مکرم حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ مسعودیؒ ہزاروں بار لدھیانہ گئے ، حضرت رئیس الاحرارؒ کی محبت وشفقت اور بزرگانہ نوازشوں سے مستفید ہوئے ۔ رئیس الاحرار کے وصال کے بعد خاص طو ر پر ان کے دو صاحبزادگان حضرت مولانا محمد احمد صاحبؒ اورجناب عزیز الرحمن صاحب جامعیؒ سے والہانہ ، دوستانہ اور بے تکلفانہ مراسم رہے۔ ان دونوں حضرات کو میں نے بھی بڑے قریب سے دیکھا اور ان حضرات کے درمیان قائم اخلاص ومحبت کو محسوس کیا۔ 

 حضرت مولانا محمد احمد صاحبؒ جب دیوبند تشریف لاتے تو والد ِمرحوم سے ضرور ملاقات فرماتے اور گھنٹوں نشست رہتی، والد مرحوم کا اکثر آل انڈیا ریڈیو دہلی تقریر کے لئے جانا ہوتا تو محترم عزیز الرحمن جامعیؒ سے ملنے کے لئے ان کے مکان واقع کوچہ رحمان ضرورپہنچتے، عزیز الرحمن صاحب ِ قلم تھے ، کئی کتابوں کے ساتھ جو انہوں نے لکھیں ’’رئیس الاحرار، در حدیثِ دیگراں‘‘ بھی ترتیب دی تھی ، غرض ہمارے اور رئیس الاحرار کے خاندانی روابط اتنے گہرے اور قدیم ہیں جن کے تذکرے کے لئے ایک الگ وقت کی ضرورت ہے۔ والد ِمرحوم اور عمِ مرحوم نے اپنے مضامین میں متعدد جگہ پر ان تعلقات کو قلم بند کیا ہے جو مختلف رسائل واخبارات میں موجود ہیں اور جو ان کی تصانیف ’’یادگارِ زمانہ ہیں یہ لوگ‘‘ نقشِ دوام‘‘ لالۂ وگل ‘‘ میں پڑھے جاسکتے ہیں۔ 
مجھے حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒسے شرفِ ملاقات حاصل ہے، کئی بار یہ سعادت حاصل ہوئی، ہر ملاقات پر میرا یہ تأثر گہرا ہوتا گیا کہ ان میں ایک مردِ مومن اور مردِ قلندر کی صفات ہیں اور انہوں نے انتہائی سلیقہ، قرینہ اور مہذب انداز میں اپنی ان خاندانی روایتوں کو باقی رکھا اور آگے بڑھایا ہے، جو اس خاندان کی تاریخ کی صورت میں ہمارے لئے سرمایۂ افتخار، سرمایۂ جہدو عمل اور سرمایۂ علم وفضل ہے۔ اللہ کریم حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ کو جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائے، پسماندگان ، خاندان کے ہرفرد اور برادرِ مکرم مولانا محمد عثمان صاحب مدظلہ کو مرحوم کے قائدانہ، جرأت مندانہ اور مومنانہ جذبوں سے مالا مال فرمائے۔ (آمین)