شیخ الہند متحدہ ہندوستان کی آزادی کے قائد تھے: مفتی اظہار مکرم قاسمی۔
کانپور :حضرت وشیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کے ان عظیم راہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے برطانوی استعمار کی غلامی کے دورِ عروج میں سورج غروب نہ ہونے والی سلطنت کے غلبہ و استعلا کو نہ صرف یہ کہ خود ذہنی اور شعوری طور پر قبول نہ کیا بلکہ فکر و عمل، جہد و استقامت اور عزم و استقلال کی شمع کو اپنے خون سے روشن کر کے برادرانِ وطن کو آزادی اور استقلال کی اس شاہراہ پر گامزن کر دیا جس پر چلتے ہوئے اس خطہ کے عوام نے غلامی کی ہولناک دلدل کو عبور کر کے حریت کے میدان میں قدم رکھا۔ ان خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء شہر کانپور کے سیکریٹری مفتی اظہار مکرم قاسمی نے کیا انہوں نے کہا کہ
آج کی تاریخ یعنی 30/ نومبرجو ٹھیک آج سے ایک سو سال پہلے جمعیۃ علمائے ہند کےسلسلہ وار دوسرے اور استقلال کے اعتبار سےاولین صدر شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نور اللہ مرقدہ (1851ء بریلی-30 نومبر 1920ء دہلی )ہمیں یتیم چھوڑ گئے تھے۔ 
حضرت نور اللہ مرقدہ کو جمعیت علمائے ہند کی تاسیس (23 نومبر 1919) کے دوسرے سال 20 نومبر 1920کو اولین مستقل صدر بنائے گئے تھے، جو تام دم آخریں یعنی 30 نومبر 1920ء تک (کل 10 دن)صدر رہے۔
مفتی اظہار مکرم قاسمی نے مزید فرمایا کہ شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ دیوبندی کا تعارف دیوبند کی فکری اور علمی درس گاہ کے پہلے طالب علم کی حیثیت کرایا جاتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ دیوبند کے قصبہ کی مسجد چھتہ میں انار کے درخت کے زیر سایہ ۱۸۶۶ء کے دوران قائم ہونے والے دینی مدرسہ کے پہلے طالب علم تھے اور اس سبقت کا تاج سعادت آپ کے سر پر حسن و خوبی کے ساتھ جگمگا رہا ہے۔ مگر شیخ الہندؒ کا اصل تعارف یہ ہے کہ وہ ان آہوں، تمناؤں، آرزوؤں، سحر خیز دعاؤں اور آنسوؤں کا ثمرۂ طیبہ تھے جو ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد اس خطۂ زمین میں دین اسلام اور ملت اسلامیہ کے مستقبل کے بارے میں پریشان و مضطرب ہزاروں کڑھتے جلتے دلوں اور جل تھل آنکھوں سے رواں دواں تھے۔ دیوبند ایک علمی، فکری اور سیاسی تحریک کا عنوان ہے اور اس عنوان کے ساتھ اگر کسی شخصیت کو ایک جامع اور مکمل علامت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے تو وہ شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی ذاتِ گرامی ہے۔
شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ بنیادی طور پر متحدہ ہندوستان یعنی برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے قائد تھے لیکن ان کا دلِ دردمند عالم اسلام کی اجتماعی مشکلات سے بے گانہ نہ تھا اور ان کی تگ و دو کے اہداف میں متحدہ ہندوستان کی آزادی کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے دیگر ممالک میں استعماری قوتوں کی سازشوں اور استحصال سے مسلمانوں کو نجات دلانا بھی شامل تھا۔