دیوبند میں سماجوادی کا پروگرام ثابت ہوا فلاپ شو، خالی کرسیاں دیکھ کر نیتائوں کےچہرے پر بھی نظر آئیں فکر مندی کی لکیریں۔
دیوبند:(سمیر چودھری)
سماج وادی پارٹی کی جانب سے کسان سوابھیمان سمیلن کا انعقاد دیوی کنڈ پرواقع میلہ گراو ¿نڈ میں کیاگیا، جس میں سابق کابینہ وزیر پروفیسر ابھیشیک مشرا نے سماجوادی پارٹی کی حصولیابیاں شمار کراتے ہوئے موجودہ بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی ۔ پروگرام میں کارکنان نے شرکت کی لیکن پارٹی کے اندر گروپ بندی کی وجہ سے حسب توقع اس پروگرام میں بھیڑ نظر نہیں آئی اور خالی پڑی کرسیاں دیکھ کر پروفیسر ابھیشیک مشرا بھی چونک گئے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ پروگرام کے دوران علاقے کا کوئی سماجوادی پارٹی کا بڑا لیڈر بھی اسٹیج پر نظر نہیں آیا۔
پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے منتظمین نے بسوں کے ذریعے لوگوںکو یہاں بلایا تھا لیکن بھیڑ کے نقطہ نظر سے پروگرام کامیاب نہیں رہا۔اس موقع پرپروفیسر ابھیشیک مشرا نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے اندر جو کام اتر پردیش میںجو ترقیاتی کام کئے ہیں وہ بی جے پی کبھی سوچ بھی نہیں سکتی،انہوں نے کہاکہ2022ءمیں ایک مرتبہ پھر ترقیاتی کاموںکی گنگا بہائی جائیگی۔ پروفیسر ابھیشیک مشرا نے کہاکہ اتر پردیش میں جتنا کام سماج وادی پارٹی حکومت نے کیا ہے اتنا کسی نے نہیں کیا ہے اور میں آج چیلنج کرتا ہوں کہ کھلے لفظوں میں کہوں کہ اگر 2022 میں سماجوادیوں کو موقع ملتا ہے تو پھر صوبہ کے ہر ضلع، ہر شہر،قصبہ اور گاو ¿ں در گاو ¿ں ترقیاتی کام کئے جائینگے۔ انہوںنے یوگی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے سماجوادی پارٹی حکومت کے ذریعہ کرائے گئے ترقیاتی کاموں پر اپنے نام کی مہر لگا رہی ہے، یا صرف نام تبدیل کررہی ہے، انہوںنے کہاکہ یہ حکومت مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کاکام کررہی ہے جبکہ سماجوادی پارٹی سبھی طبقات کو ساتھ لیکر انہیں مساوی حقوق دینے میں یقین رکھتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ سماجوادی پارٹی ایک مرتبہ پھر مضبوطی کے ساتھ صوبہ کے اقتدار میں لوٹے گی کیونکہ اس اسمبلی انتخاب میںعوام نے بی جے پی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کا ذہن بنا لیاہے۔ اس کے علاوہ مفتی اسعد قاسمی،اسمبلی حلقہ انچارج رمیش پنوار،تصور،سلیم قریشی وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔ آخر میںٹھاکر اوم پرکاش سنگھ نے سبھی کاشکریہ اداکیا۔