اولیاء کی محبت میں رنگ کر اپنی زندگیوں کو گزارنے والے بنیں: مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمیؒ کی یاد میں منعقد پروگرام میں علماء کا خطاب۔
فائل فوٹو: مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمیؒ

کانپور:۔ شہر کانپور میں ہونے والے اجلاس عظمت اولیاء کی بنیاد حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی ؒسابق صدر جمعیۃ علماء اتر پردیش و قاضی شہر کانپور نے ڈالی تھی، جس کا مقصد یہ تھا کہ گھر گھر تک اولیاء کرام کی سچی تعلیمات پہنچیں اور لوگ ان سے فائدہ اٹھا کراولیاء کی محبت میں رنگ کر اپنی زندگیوں کو گزارنے والے بنیں۔ اب ان پروگراموں کو حضرتؒ کے صاحبزادے اور جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر حضرت مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمیؒکے زیر نگرانی میں پورے شہر میں منعقد کیاجا رہا ہے تاکہ ہم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو تمام خرافات سے بچاکر سب کے ایمان کی حفاظت کرنے والے بن سکیں۔مذکورہ خیالات کا اظہار مسجد ایوبیہ بابوپوروہ میں منعقد خواجہ اجمیریؒ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسجد محمودیہ اجیت گنج کے امام وخطیب مولانا انصار احمد جامعی نے کیا۔ مولانا نے کہا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت خواجہ اجمیری ؒ کو ملک ہندوستان بھیج کر اس ملک کی سرزمین پر احسان کیا، جن کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو نہ صرف ایمان کی دولت ملی بلکہ جن کے پاس پہلے سے ایمان تھا ان لوگوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کیا ہے۔ مولانا نے غریب نوازؒ کی زندگی کے ایک واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ آپؒ کسی سفر سے واپس ہوئے تو بہت خوش تھے، آپ ؒ کی والدہ ماجدہ نے جب خوش ہونے کی وجہ پوچھی تو آپؒ نے فرمایا کہ اس سفر میں تو کمال ہو گیا، لاکھوں لوگوں نے میرے ہاتھ پر کلمہ پڑھا اور ہزاروں لوگوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی، اس پر آپؒ کی والدہ نے فرمایا کہ بیٹا اس میں تمہارا کوئی کمال نہیں ہے، اس میں تو ہماری محنتوں اور کوششوں کا کمال ہے۔ اس پر آپؒ نے والدہ سے بات سمجھانے کیلئے کہتے ہوئے کہا اس میں تو میں نے محنت کی، سفر کی صعوبتوں اور سردی گرمی کو میں نے برداشت کیا۔ آپؒ کی والدہ بھی اللہ کی بہت نیک بندی تھیں انہوں نے فرمایا کہ جب تم چھوٹے بچے تھے اور دودھ کیلئے روتے تھے تو میں اٹھ کر پہلے وضو کرتی پھر دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد تمہیں دودھ پلاتی تھی اور چپکے چپکے اللہ سے یہ دعا کرتی تھی کہ ’اے اللہ!دودھ کے ہر قطرے کے ساتھ اس کے سینے کے اندر ولایت کا نور ڈال دیجئے‘۔ یہ سن کر حضرت خواجہ غریب نوازؒ اپنی والدہ کے قدموں میں گر گئے اور فرمایا کہ بات سمجھ میں آ گئی، یقینا یہ آپ کی دعاؤں اور آپ کی تعلیم وتربیت کا اثر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اتنا کام ہم سے لیا۔
مسجد ابوبکر صدیق ؓ جے کے کالونی میں منعقد عظمت اولیاء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ موتی نگر جاجمؤ کے امام وخطیب مولانا مفتی عزیز الرحمن قاسمی نے کہا کہ اللہ رب العزت کا کتنا کرم ہے کہ اس نے دین اتنا آسان بنایا ہے کہ آدمی کو’ولی اللہ‘ اور اللہ کا مقرب و محبوب بندہ بننے کیلئے کسی جنگل، جزیرے میں جانے کی یا کسی ویرانے میں ڈیرہ ڈالنے کی ضرورت نہیں بلکہ شریعت یہ کہتی ہے کہ مسلمان انسانوں ہی کے درمیان زندگی گزارنے، اپنے روز مرہ کے کام کرنے لیکن انہیں شریعت کی حدود کے اندر رہ کر انجام دے تو اس کو بارگاہ خداوندی میں محبوب کا مقام حاصل ہوتا جائے گا۔
مسجد بخشو جراح پٹکاپور میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مسجد نور پٹکاپور کے امام وخطیب مفتی اظہار مکرم قاسمی نے کہا کہ آج کے دور میں اولیاء اللہ کے نام پر جو ڈھونگ ہو رہا ہے، ہمیں اپنے آپ کو ان سے بچانا چاہئے۔
جامع مسجد اشرف آباد میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نور الدین احمد قاسمی نے کہا کہ اللہ کے نیک بندوں کی پہچان بتایا ہے کہ ایمان اور تقوے والی زندگی ہوگی تب تو وہ اللہ کا ولی ہوگا لیکن اگر وہ ایمان والااور اس کی زندگی تقوے والی زندگی نہیں ہے، اللہ کے حکم اور نبیؐ کی تعلیمات سے ہٹ کر زندگی گزار رہا ہے اور خود مسلمان تو کہتا ہے لیکن نماز نہیں پڑھتا، روزے نہیں رکھتا، شریعت کی دھجیاں اڑا رہا ہے تو وہ اللہ کا ولی نہیں ہو سکتا۔وہ شیطان کا ولی ہو سکتا ہے۔
مدرسہ عاشق العلوم مسجد ایک میناری جوہی لعل کالونی میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد کلیم جامعی اور مولانا محمد اویس جامعی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ جتنے بھی اولیاء اللہ گزرے ہیں وہ سب پابند شریعت اور متبع سنت تھے۔ بدعات و خرافات سے حد درجہ بیزار، عہدہ و منصب اور مال و دولت کی حرص سے ان کے قلوب پاک تھے۔ مخلوق کی محبت کو وہ اللہ کی محبت کے تابع رکھتے تھے۔اس سے قبل اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں مقام عوام کے ساتھ مصلیان مسجد موجود رہے۔

سمیر چودھری۔