وسیم رضوی کی حرکتیں ملک کی امن و سلامتی کیلئے خطرہ، متحدہ مجلس عمل کا صدر جمہوریہ کو میمورنڈم بھیج کر رضوی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ۔
سہارنپور: متحدہ مجلس عمل کے عہدیداران و کارکنان کی جانب سے صدر جمہور یہ ہند رام ناتھ کوند کے نام ایس ڈی ایم کے توسط سے ایک میمورنڈم دیا گیا۔ جس میں ملعون وسیم رضوی نے چندمہینہ قبل سپریم کورٹ میں قرآن جیسی مقدس کتاب کی 26 آیات کو حذف کرنے کیلئے ایک عرض داشت داخل کی تھی جس پر مسلمانوں میں شد ید ناراضگی پائی گئی اور ملعون کے خلاف ملک کے کونہ کونہ سے آوازیں بلند کی گئیں اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ ایسے فتنہ پرور آدمی کو گرفتار کر اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے لیکن حکومت کے ڈھل مل رویہ سے یہ ممکن نہ ہوسکا جس کی وجہ سے اس کی حرکتیں بڑھتی چلی گئیں اور وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مسلسل زہر افشانی کر رہا ہے۔ 
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کر نا اورصحابہ کرام کو برا بھلا کہنا اس کی عادت بن چکی ہے یہاں تک کہ شیعہ مسلک کے تمام علماءنے اس کو اسلام سے خارج قرار دیدیا ہے جو ہنوز کا فرانہ زندگی بسر کر رہا ہے۔ وسیم رضوی کو عدالت عظمی کے ذریعہ پھٹکارلگائی جاچکی ہے اور عدالت نے انصاف کے پہلوکو مدنظر رکھتے ہوئے عرضی کو خارج بھی کر دیا ہے۔

سہارنپور کے سر کردہ علما حضرات کی زیرنگرانی یہ میمورنڈم ایس ڈی ایم کوسونپا گیا جس میں واضح طور پر مطالبہ کیا گیا اور اس طرح کی گھٹیا سوچ کے پیچھے جن لوگوں کا دماغ کام کر رہا ہے اس کو بے نقاب کر نے کی مانگ کی گئی۔ متحد ہ ومجلس عمل سہار نپورکمیٹی کے لوگوں نے میمورنڈم میں مطالبہ کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایک اچھا معاشر تشکیل دیا جائے اور تمام مذاہب کے لوگ مل کر اس کو سنوارے تو ہمیں اس طرح کی ذلیل حرکتوں کی پر زور مخالفت کرنی ہوگی، یہ تمام تر چیز یں ملک میں نفرت اور تعصب کو بڑ ھاوادیتی ہیں۔ وسیم رضوی بھی ایسی ہی ایک کڑی ہے جو کہ نفرت، جھوٹ اور اسلام کیخلاف پروپیگنڈابنانے کا عادی ہے جس سے ملک کے حالات کو شد ید خطر ولاحق ہوسکتا ہے اور ملک کے امن و امان میں اس کی یہ حرکتیں رکاوٹ پیدا کرسکتی ہیں۔ لہٰذایہ کمیٹی حکومت اتر پردیش اور مرکزی حکومت سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ ایسے شخص کوفو را گرفتا کیا جائے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ 
میمورنڈم دینے والوں میں مولانا فرید مظاہری منیجر جامع مسجد سہارنپور،مولانا اطہر حقانی سکریٹری تنظیم دعوت الحق، مولانا شاہد مظاہری جامعہ فلاح دارین پیرزادہ شیرشاہ اعظم، مونس رضا نمائندہ ممبر پارلیمنٹ، مولانا اسعد حقانی مظاہر علوم، مولانا فضیل، قاری شمیم جمعیة الانصار، ایم شاہدز بیری، حافظ اویس تقی جمعیة الحفاظ، عاقل فاروق، تا جدار خان انعام رسول، جماعت اسلامی مولانا محسن ندوی شریک رہے۔