جگپال نے چھوڑی بی ایس پی تو رویندر مولہو کی ہوئی گھر واپسی، بی جے پی میں شامل ہوئے مایاوتی کے قریبی لیڈر، بی جے پی چھوڑ بی ایس میں آئے رویندرمولہو۔
دیوبند: (سمیر چودھری)
ضلع سہارنپور کے چار مرتبہ کے رکن اسمبلی اور بی ایس پی کے قدر آور لیڈر جگپال سنگھ نے آج بہن جی کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی کا دامن تھام لیاہے،جو مایاوتی کے لئے بڑا جھٹکا ہے کیونکہ جگپال سنگھ نہ صرف ضلع میں بی ایس پی کے مضبوط دلت لیڈر تھے بلکہ انہیں مایاوتی کے انتہائی قریبیوںمیں شمارکیاجاتا تھا،وہیںرامپور منیہاران کے سابق رکن اسمبلی ضلع کے سینئر دلت لیڈر رویندر مولہو کا ڈھائی سال بعد ہی بی جے پی سے منہ بھنگ ہوگیا اور انہوںنے گھر واپسی کرلی ہے، آج یکم دسمبر کو سہارنپور میں منعقد پروگرام میں باضابطہ طور پر وہ پارٹی کی رکنیت لے گیں۔ منگل کے روز سہارنپور ضلع میں جہاں سینئر لیڈر جگپال سنگھ نے مایاوتی کو جھٹکا دیا وہیں رویندر مولہو نے گھر واپسی کرکے مایاوتی کو راحت دی ۔ واضح رہے کہ یہ دونوں لیڈران طویل وقت سے بی ایس پی کے ساتھ رہے ہیں اور انہیں علاقہ میں دلتوںکے مضبوط لیڈران میں شمار کیا جاتاہے، لیکن گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے دوران رویندر مولہو نے بی ایس پی چھوڑ کر بی جے پی جوائن کرلی تھی لیکن ڈھائی سال بعد بھی انہیں کچھ حاصل نہ صورت میں اب گھر واپسی کا فیصلہ کیاہے، وہیں جگپال سنگھ نے آج بہوجن سماج پارٹی کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی جوائن کرلی۔ لکھنو ¿ میںواقع بی جے پی کے دفتر میں صوبہ کے نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے انہیں پارٹی کی رکنیت دلائی ،ان کے ساتھ ہی ان کے کئی حامی بھی بی جے پی میں شامل ہوئے۔ جگپال داس نے وزیر اعظم مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی کی حکومتوں میں کرائے جانے والوں کاموں کی خوب تعریف کرتے ہوئے بی جے پی میںاپنا اعتماد ظاہر کیا۔
ادھر سہارنپور کی رامپور منیہاران سیٹ سے کئی مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے رویندر کمار مولہو نے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر گھر واپسی کرلی ہے، آج سہارنپور کے چلکانہ روڈ پر منعقد ہونے والے پروگرام میں بی ایس پی کے علاقائی ذمہ دار شمس الدین راعین اور رکن پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن نے انہیں پارٹی کی ضابطہ طورپر رکنیت دلائینگے۔واضح رہے کہ سہارنپور ہمیشہ سے مایاوتی کا مضبوط قلعہ رہاہے لیکن گزشتہ اسمبلی انتخاب میں مایاوتی کے ہاتھ یہاں مایوسی آئی تھی ،لیکن اس کے بعد ہوئے لوک سبھا الیکشن میں مایاوتی اپنے امیدوار حاجی فضل الرحمن کو یہاں سے جتانے میں کامیار ہی تھی۔اب ایک مرتبہ پھر اسمبلی انتخابات کے مدنظر ضلع میں سیاسی صورتحال مسلسل تبدیل ہورہی ہے۔ غور طلب ہے کہ انتخابات کے نزدیک آتے ہی لیڈران بھی اپنا نفع نقصان دیکھنے لگے ہیں اور اسی کے تحت پارٹیاں بدل رہے ہیں۔